مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 341
درج کراؤں گا۔اور جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔یہی میرا دعویٰ ہے کہ میں بدل و جان اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعویٰ میں سچا کون ہے۔اور جھوٹا کون ہے۔اگر میں اُس علامت کی رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے، مغلوب رہا تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر، دجال، بے ایمان، شیطان اور کذاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنونِ فاسدہ درست اور برحق ہوں گے کہ گویا میں نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں فریب کیا اور لوگوں کا روپیہ کھایا اور دُعا کی قبولیت کے وعدہ پر لوگوں کا مال خورد برد کیا اور حرام خوری میں زندگی بسر کی۔اگر خدا تعالیٰ کی اس عنایت نے، جو مومنوں اور صادقوں اور راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہے، مجھ کو سچا کر دیاتو پھر آپ فرماویں کہ یہ نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزاوار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کے لئے باقی رہے گا؟ آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا۔میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہہ سے واقف ہے۔اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ ۱؎ یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔سو یقینا سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغگو ہونا ثابت کر دے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں اُن تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا۔آپ کاد عویٰ ہے کہ میں قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔پس اگر آپ اس قول میں سچے ہیں تو آزمائش کے لئے میدان میں آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجال ہے رُوسیاہ ہو جائے۔اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کے لئے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القا ئِ رَبیّ ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ شانہٗ کی قسم ہے کہ حسبِ طریق ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۲۷