مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 343
ہے کہ کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہوتا ہے کہ اُس وقت بجز کذب کے اور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اس کو نظر نہیں (آتا) تب اُس وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب اور آیا اس نازک وقت میں اس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔اس قسم کے نمونے بھی عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں جن کا مفصل بیان کرنا موجبِ تطویل ہے تا ہم تین نمونے اِس غرض سے پیش کرتا ہوں کہ اگر اُن کے برابر بھی کبھی آپ کو آزمائش صدق کے موقع پیش آئے ہیں تو آپ کو اللہ شانہٗ کی قسم ہے کہ آپ اُن کو معہ ثبوت اُن کے ضرور شائع کریں تا معلوم ہو کہ آپ کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ امتحان اور بلا کے شکنجہ میں بھی آکر آپ نے صدق نہیں توڑا۔ازاں جملہ ایک یہ واقعہ ہے کہ میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری نے شر کا ملکیت قادیان سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کرا دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ اُن شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں نابود ہو چکی تھی اور میرے والد صاحب نے تنِ تنہا مقدمات کر کے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کی بازیافت کیلئے آٹھ ہزار کے قریب خرچ و خسارہ اُٹھایا تھا جس میں وہ شر کاء ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے۔سو اُن مقدمات کے اثناء میں جب میں نے فتح کے لئے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَآئِکَ اِلاَّفِیْ شُرَکَآئِکَ۱؎ یعنی میں تیری ہر یک دعا قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔سومیں نے اس الہام کو پا کر اپنے بھائی اور تمام زن و مرد اور عزیزوں کو جمع کیا جو اُن میں سے بعض اب تک زندہ ہیں اور کھول کر کہہ دیا کہ شرکاء کے ساتھ مقدمہ مت کرو۔یہ خلاف مرضی حق ہے۔مگر انہوں نے قبول نہ کیا اور آخر ناکام ہوئے لیکن میری طرف سے ہزار ہا روپیہ کا نقصان اُٹھانے کیلئے استقامت ظاہر ہوئی۔اس کے وہ سب، جو اب دشمن ہیں، گواہ ہیں۔چونکہ تمام کاروبار زمینداری میرے بھائی کے ہاتھ میں تھا اس لئے میں نے بار بار ان کو سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا اور آخر نقصان اُٹھایا۔ازاں جملہ ایک یہ واقعہ ہے کہ تخمیناً پندرہ یا سولہ سال کا عرصہ گذرا ہوگا یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہو کہ اس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام ۱؎ آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۹۷