مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 269

جائے گا۔دوسری یہ گواہی ہے کہ مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتًا یا اشارۃً میرے مقابلہ پر کھڑا ہوگا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کوچھوڑ دے گا۔یہ دو نشان ہیں جو یورپ اور امریکہ کے لئے خاص کئے گئے ہیں۔کاش! وہ ان پر غور کریں اور ان سے فائدہ اُٹھائیں۔یاد رہے کہ اب تک ڈوئی نے میری اس درخواست مباہلہ کا کچھ جواب نہیں دیا اور نہ اپنے اخبار میں کچھ اشارہ کیا ہے اس لئے میں آج کی تاریخ سے جو ۲۳؍ اگست ۱۹۰۳ء ہے۔اس کو پورے سات ماہ کی اور مہلت دیتا ہوں۔اگر وہ اس مہلت میں میرے مقابلہ پر آگیا اور جس طور سے مقابلہ کرنے کی میں نے تجویز کی ہے، جس کو میں شائع کر چکا ہوں، اس تجویز کو پورے طور پر منظور کر کے اپنے اخبار میں عام اشتہار دے دیا تو جلد تر دنیا دیکھ لے گی کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوگا۔میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور وہ جیسا کہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے، جو میری نسبت گویا ایک بچہ ہے لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی۔کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا مالک اور احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔اور اگر مسٹر ڈوئی اس مقابلہ سے بھاگ گیا تو دیکھو آج میں تمام امریکہ اور یورپ کے باشندوں کو اس بات پر گواہ کرتا ہوں کہ یہ طریق اس کا بھی شکست کی صورت سمجھی جائے گی۔اور نیز اس صورت میں پبلک کو یقین کرنا چاہئے کہ یہ تمام دعویٰ اس کا الیاس بننے کا محض زبان کا مکر اور فریب تھا اور اگرچہ وہ اس طرح سے موت سے بھاگنا چاہے گا لیکن درحقیقت ایسے بھاری مقابلہ سے گریز کرنا بھی ایک موت ہے۔پس یقین سمجھو کہ اس کے صیہون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں سے ضرور ایک صورت اس کو پکڑ لے گی۔اب میں اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ’’اے قادر اور کامل خدا! جو ہمیشہ نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا اور ظاہر ہوتا رہے گا یہ فیصلہ جلد کر کہ پگٹ اور ڈوئی کاجھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔کیونکہ اس زمانہ میں تیرے عاجز بندے اپنے جیسے انسانوں کی پرستش میں گرفتار ہو کر تجھ سے بہت دور جا پڑے ہیں۔سو اے ہمارے پیارے خدا! ان کواس مخلوق پرستی کے اثر سے رہائی بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر جو اس زمانہ کے لئے تیرے