مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 268

فقرہ سے مراد میری یہ ہے کہ لندن میں تو مسٹر پگٹ نے خدائی اور مسیحیت کا دعویٰ کیا اور امریکہ میں مسٹر ڈوئی الیاس بن بیٹھے اور پیشگوئی کر دی کہ مسیح ابن مریم پچیس برس تک دنیا میں آجائے گا۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ ڈوئی نے تو بزدلی دکھلائی اور الیاس بننے میں بھی اپنی پردہ دری سے ڈرتا رہا اور مسیح نہ بنا بلکہ مسیح کا خادم بنا اور پگٹ نے بڑی ہمت دکھلائی کہ خود مسیح بن گیا، نہ صرف مسیح بلکہ خداہونے کا بھی دعویٰ کیا۔اب لندن والوں کو کسی بیماری، آفت، مصیبت کا کیا اندیشہ ہے، جن کے شہر میں خدا اُترا ہوا ہے۔مگر میں نے سنا ہے کہ لندن میں کچھ یہودی بھی رہتے ہیں اس لئے بے شک یہ اندیشہ ہے کہ ان کو طبعاً یہ خیال پیدا ہو کہ یہ تو وہی مسیح ہے جو صلیب سے بوجہ غشی کے غلطی کے ساتھ زندہ اُتارا گیا اور پھر موقع پا کر مشرقی بلاد کی طرف بھاگ گیا۔آخر اب ایسے طور سے اس کو صلیب دیں کہ کام تمام ہو جائے اور پھر کسی طرف بھاگ نہ سکے۔اور ساتھ ہی یہ فکر بھی ہے کہ مبادا عیسائیوں کو بھی خیال آ جاوے کہ پہلا کفّارہ پُرانا اور بودہ ہو چکا ہے اور شراب خوری اور فسق و فجور کی کثرت نے ثابت بھی کر دیا ہے کہ اس کفّارہ کی تاثیر جاتی رہی ہے۔اس لئے اب ایک نئے خون کی ضرورت ہے۔سو میں ہمدردی سے کہتا ہوں کہ مسٹر پگٹ کو ان ہر دو فرقوں سے چوکس رہنا چاہئے۔القصہ ان دنوں میں جب کہ زمین میں ایسے ایسے جھوٹے اور ناپاک دعویکئے گئے ہیں اس لئے خدا نے جو زمین پر بدی اور ناپاکی کا پھیلنا پسند نہیں کرتا مجھے اپنا مسیح کر کے بھیجا تا وہ زمین کی تاریکی کو اپنی توحید سے روشن کرے اور شرک کی نجاست سے دنیا کو مخلصی بخشے۔پس میں وہی مسیح موعود ہوں جو ایسے وقت میں آنے والا تھا۔اور میں صرف اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ وہ خدا جس نے زمین و آسمان بنایا، میری گواہی دیتا ہے۔اس نے اس گواہی کے پورا کرنے کے لئے صدہا نشان میرے لئے ظاہر کئے اور کر رہا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کا فضل اُس مسیح سے مجھ پر زیادہ ہے جو مجھ سے پہلے گزر چکا ہے۔میرے آئینہ میں اس کا چہرہ اس سے زیادہ وسیع طور پر منعکس ہوا ہے جو اُس کے آئینہ میںہوا تھا۔اگر میں صرف اپنے منہ سے کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر وہ میرے لئے گواہی دیتا ہے تو کوئی مجھے جھوٹا قرار نہیں دے سکتا۔میرے لئے اس کی ہزار ہا گواہیاں ہیں جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔مگر منجملہ ان کے ایک یہ بھی گواہی ہے کہ یہ دلیر دروغ گو یعنی پگٹ جس نے خدا ہونے کا لندن میں دعویٰ کیا ہے وہ میری آنکھوں کے سامنے نیست ونابود ہو