مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 246
سمجھتے اور اس کی تعظیم کرتے ہیں تو میں صرف یہ نتیجہ نکال سکتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنے مخالف کے ساتھ مباحثہ میں اس نرمی اور ادب کے معیار کو مدنظر نہیں رکھتے جو ہمیشہ سے میرا مقصد رہا ہے اس لئے اس دلیل پر بھی میں مرزا صاحب کو برابری کے تعلقات کے ساتھ نہیں مل سکتا۔۳۔جیسا کہ آپ مجھے یقین دلاتے ہیں مرزا صاحب کے بہت سارے پیرو ہوں گے مگر اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ ان کے مسیح ہونے کے دعویٰ کو اس صوبہ کے بکثرت مسلمان ردّ کرتے اور اس کی تحقیر کرتے اور اس پر استہزا کرتے ہیں اس لئے جس حالت میں کہ میں خواہ ذاتی طو رپر کیسا ہی ناقابل ہوں ایک حد تک عیسائی قوم کا وکیل ہوں اس عہدہ کے سبب سے جو مجھے حاصل ہے مرزا صاحب کسی طرح پر بھی مسلمانوں کے وکیل نہیں ہو سکتے تو پھر کس طرح میں مباحثہ میں ان کو اپنے برابر سمجھ سکتا ہوں۔۴۔یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب سے میں اس ضلع کا بشپ ہوا ہوں میرا پہلا اور زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ عیسائی کلیسیا کی حاجتوں کی طرف توجہ کروں اور پوری کوشش کروں کہ اس کو مضبوط کیا جائے اور خدا تعالیٰ پر سچے ایمان اور زندگی کی پاکی میں اس کو اندر سے بنایا جائے اور اس لئے ایک معمولی واعظ کا کام (یعنی ایسے شخص کا جو اپنے وقت وعظ کرنے میں اور ان لوگوں کو جو اَب عیسائی مذہب سے باہر ہیں عیسائی مذہب پر ایمان لانے کے لئے ترغیب دینے میں صرف کرتا ہے) میرے وقت اور خیالات میں صرف ایک چھوٹے درجہ کا کام ہے اس میں شک نہیں کہ یہ ایک ایسا کام ہے جس سے مجھے بہت تعلق ہے اور جس میں میں خوشی کے ساتھ شامل ہوتا ہوں لیکن جب خدا نے ایک اور طرح پر اپنی خدمت کرنے کو مجھے بُلا لیا ہے تو مجھے اس کی آواز کی پیروی کرنی چاہیے اس لئے میں اپنے اصل کام میں سے اس قدر حصہ وقت کا نہیں دے سکتا جس کی آپ کے مجوزہ مباحثہ کے لئے ضرورت ہوگی۔۵۔بالآخر میں یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسے مذہبی مباحثہ سے جو نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ان کو میں اور آپ ایک بڑے فرق کی نگاہ سے دیکھتے ہیں آپ تو اپنی چٹھی میں یہ خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ اس تحقیقات کے نتیجہ پر ہم اس مقدس نبی کے آگے سرجھکا دیں جو دل کی پاکیزگی فضیلت قوت قدسی اور اخلاقی راستبازی میں سب دنیا سے بڑھ کر ہے دوسرے الفاظ