مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 245
لیفرائے کا فرار اس چیلنج کے جواب میں بشپ صاحب نے مندرجہ ذیل خط لکھا۔ہارونگٹن شملہ ۱۲؍ جون ۱۹۰۰ء جناب من! مجھے ایک چھپی ہوئی چٹھی جس پر آپ کے اور کئی اور معزز اشخاص کے دستخط تھے ملی ہے جس میں مجھ سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ساتھ اسلام اور عیسویت کے بعض اصولوں پر ایک کھلے مباحثہ کے لئے میں کوئی وقت اور جگہ مقرر کروں۔میں افسوس کرتا ہوں کہ میں آپ کی اس تجویز کو قبول نہیں کر سکتا اور اس کے بڑے بڑے وجوہات یہ ہیں۔۱۔جس قسم کے دوستانہ تعلقات کی آپ کے مجوزہ مباحثہ میں ضرورت ہوگی اس قسم کے تعلقات کے ساتھ میں مرزا غلام احمد صاحب کو ملنے سے انکار کرتا ہوں۔مرزا صاحب نے اپنے آپ کو مسیح کہنے کی جرأت کرنے میں بغیر ایک ذرّہ استحقاق کے ایسا نام اختیار کیا ہے جس سے ہم عیسائی پکارے جاتے ہیں اور جس کو ہم نہایت درجہ کی عزت اور ادب سے دیکھتے ہیں اور اس طرح پر انہوں نے سخت ہتک اور بے عزتی اس کی کی ہے جس کو میں اپنا خداوند اور مالک سمجھ کر پرستش کرتا ہوں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ میں مرزا صاحب کو دوستانہ تعلقات کے ساتھ مل سکوں۔۲۔آپ اپنی چٹھی میں اشارہ کرتے ہیں کہ تمام بحثوں میں میری یہ خواہش رہی ہے کہ ان کو نرمی کے ساتھ کیا جائے اور ان لوگوں کے خیالات کو جن کے ساتھ عقائد میں اختلاف کرنے پر میں مجبور ہوں ادب کی نگاہ سے دیکھا جائے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قاعدہ پر عمل کرنا اور کوئی ایسے لفظ نہ کہنا جو جائز طور پر ان لوگوں کے خیالات کو دکھ پہنچانے والے ہوں جو مجھ سے اختلاف رکھتے ہیں۔یہی ہمیشہ سے میری سچی خواہش رہی ہے لیکن جب میں ان تحریروں کو جو مرزا صاحب نے وقتاً فوقتاً عیسائی مذہب پر لکھی ہیں پڑھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کس قدر سختی اور بدزبانی کے ساتھ وہ ان واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کی نسبت ان چار انجیلوں میں مرقوم ہیں جن کو ہم عیسائی خداوند تعالیٰ کے پاک کلام کا حصہ