مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 247

میں آپ اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ محض عقلی دلائل کے ذریعہ سے سچے مذہب کا راستہ اور ایک مذہب کی دوسرے مذہب پر فضیلت معلوم ہو سکتی ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ خیال اصولاً غلط ہے اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی تعلیم کے خلاف ہے اور اس ملک کے اکثر لوگوں کے دلوں میں اس خیال کے غلبہ نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔اس لئے میں اپنے کسی فعل سے اس کو ٹھیک ماننا یا اس کی تائید کرنی نہیں چاہتا ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب صرف عقل سے ہی مدد نہیں مانگتا بلکہ انسان کے سارے قویٰ سے یعنی اس کی مرضی سے اس کے احساسات سے اس کی اخلاقی خواہشات سے اس کی ایمانی حیثیت سے یا مختصر الفاظ میں اس کے دل اور دماغ سے ہمارے خداوند یسوع مسیح کی تعلیم میں خدا اور اس کے سچے مذہب کا علم اس قدر عقلی قویٰ کی تیزی سے متعلق نہیں جیسا کہ دل کی پاکیزگی اور زندگی کے افعال میں اس کی سچی فرمانبرداری کے ساتھ ہے جیسا کہ ایک موقع پر مسیح کہتا ہے ’’مبارک ہیں وے جو دل کے پاک ہیں کیونکہ وے خدا کو دیکھیں گے‘‘ متی ۵:۸ اور پھر ایک اور موقع پر جو میرے خیال میں اس امر پر بڑی روشنی ڈالتا ہے وہ کہتا ہے ’’اگر کوئی آدمی اس کی مرضی کرنا چاہتا ہے (یعنی خدا کی مرضی) تو وہ تعلیم کو جان لے گا کہ آیا یہ خدا کی طرف سے ہے یا میں اپنی طرف سے باتیں کرتا ہوں‘‘۔یوحنا ۷:۱۷۔میرا اپنا پکّا ایمان ہے کہ کسی آدمی کو سچے خدا کا زندہ علم حاصل نہیں ہو سکتا مگر اس کی روح القدس کی مدد سے اور یہ کہ ایسی مدد جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں توبہ کرنے والوں اور دل کے پاکوں اور فروتنوں اور راستبازوں کو دی جاتی ہے نہ ان لوگوں کو جن کے عقلی قویٰ تیز ہوں اور جو مذہبی مباحثہ میں پورے اُتر سکیں یہ بالکل سچ ہے کہ میں اس بات کو بہت پسند کرتا ہوں کہ دونوں مذہبوں یعنی عیسائیت اور اسلام کے پیرو ایک دوسرے کو جانیں اور ایک دوسرے کے عقائد کو اس سے بہتر سمجھیں جیسا کہ گذشتہ میں حالت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ کیوں میں خوش ہوتا ہوں کہ ایک طرف تو آپ کے مذہب کی ان تحریروں کو مطالعہ کروں جو مجھے اس کے سچے مضامین اور تعلیموں سے اچھی طرح سے آگاہ کر سکیں اور دوسری طرف ایسے لیکچر دوں جیسے کہ ابھی میں نے لاہور میں دیے جن کے ذریعہ سے حاضرین کو ایسے سوال کرنے کا موقع دیا جائے جن سے وہ مذہب کے اصولوں کو بہ نسبت سابق اچھی طرح سے اور زیادہ صفائی کے