مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 90 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 90

90 کہتے ہیں اور یہ پھلوں کے وٹامن سی ، کئی غذاؤں ، آٹے کے چھان بورے ( وٹامن ای ) اور ریڈوائن میں پایا جاتا ہے۔یہ جزو جسم میں عمل تکسید کو روکتا ہے یعنی Anti Oxidant ہے جس سے جسم کے توڑ پھوڑ بڑھاپے اور جھریوں وغیرہ پڑنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔چائے میں یہ جز و پھلوں کے رس سے پندرہ گنا زیادہ ہوتا ہے اور یہ دل کی بیماریوں اور کینسر کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لحاظ سے مفید ہے گویا چائے کے اثرات اس لحاظ سے کافی الٹ ہیں۔جو غذا ہم کھاتے ہیں وہ جسم کی تعمیر بھی کرتی ہے اور اس مشین کو چلانے کے لئے ایندھن کا کام بھی کرتی ہے لیکن ہر ایندھن کی طرح اس کو بھی جلنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارا سانس مہیا کرتا ہے۔یہ ایک کیمیائی عمل ہے جو Oxidation کہلاتا ہے۔اور یہ جسم کے ایسے مالیکیولز جو Free Radicals کہلاتے ہیں جب آکسیجن کے ساتھ ملتے ہیں تو پیدا ہوتا ہے۔یہ عمل لوہے کو زنگ لگنے کے مشابہ ہے اور جسم کو قلیل کر کے بڑھاپے کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے۔جسم کی ضرورت سے زائد جتنی غذا زیادہ کھائی جائے گی FREE RADICALS تعداد میں اتنے ہی زیادہ ہوں گے اور پھر بجائے اس کے کہ بدن غذا کو کھائے ، غذا بدن کو کھانا شروع کر دیتی ہے۔حدیث میں بھوک رکھ کر کھانے کا جوارشاد ملتا ہے اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے۔اس عمل کو سست کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض Anit Oxidant ہماری غذاؤں میں رکھ دیتے ہیں ( مثلاً وٹامنز سی ای وغیرہ) بہر حال وہی غذا اور سانس جو ایک وقت میں جسم کی تعمیر کرتے ہیں وہی دوسرے وقت میں جسم کی تخریب کا سامان بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔شاید اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے غالب نے کہا تھا: میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی خلاصہ کلام یہ کہ ” آپ چائے پیئیں گے یا کافی ؟‘ کی پیشکش کا مناسب جواب یہی لگتا ہے کہ چائے ہی کافی ہے۔لہذ اوہی چلے گی۔(الفضل انٹر نیشنل)