مکتوب آسٹریلیا — Page 89
89 88 آپ چائے پیئیں گے یا کافی ؟ بظاہر تو اس پیشکش کا جواب بڑا سیدھا سادہ ہے دونوں میں سے کوئی بھی ہوٹھیک ہے۔لیکن سنتے ہیں اٹھارویں صدی میں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے سویڈن کے شاہ گستاف سوئم نے کئی سال لگا دیئے تھے بادشاہ نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ صحت کے لئے چائے اچھی ہے یا کافی دو جڑواں بھائیوں پر تجربہ کیا جن کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔بادشاہ نے کہا کہ دونوں کی سزائے موت اس شرط پر عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے کہ ان میں سے ایک چائے کا اور دوسرا کافی کا جگ دن میں تین بار روزانہ عمر بھر پیئے گا۔اتفاق سے چائے پینے والا بھائی پہلے مرگیا (اس نے ۸۳ سال عمر پائی تھی ) اور کافی پینے والا زندہ رہا۔چنانچہ بادشاہ نے تب سے کافی پینی شروع کر دی اور وہ رواج پاگئی۔لیکن شاید زیادہ کافی پینے کا نتیجہ تھا کہ بادشاہ خود۱۸۹۲ء میں صرف ۴۵ سال کی عمر میں چل بسا۔لہذا یہ سوال تشنہ جواب ہی رہا کہ لمبی عمر کے لئے چائے مفید ہے یا کافی۔حال ہی میں برطانیہ کے سائنسدانوں نے کافی پینے کے نتائج پر تحقیق کی ہے اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے چائے کے اثرات پر۔دونوں کے نتائج جو اخباروں میں چھپے ہیں دلچسپ ہیں۔کافی کے بارہ میں ثابت ہوا ہے کہ یہ دل کی شریانوں کو سکیڑتی ہے۔بلڈ پریشر بڑھاتی ہے اور دل کے حملہ کا باعث بنتی ہے۔اس لئے کافی زیادہ پینے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔اس کے بالمقابل آسٹریلیا کے سائنسدان کہتے ہیں کہ سیاہ یا سبز چائے میں ایک ایسا جزو پایا جاتا ہے جسے پالی فینولز (Polyphenols)