مکتوب آسٹریلیا — Page 53
53 ہو۔کون جانے کیا ہو۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے وجود میں آنے سے قبل زمین پر ایک مخفی مخلوق ( جن ) پیدا کی گئی تھی جو اس وقت کے گرم ماحول سے مناسبت رکھتی تھی ( الحجر : ۲۷۔۲۸) قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کو پیدائش کے بعد وسعت دے رہا ہے جیسے فرمایا وَ السَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِايْدٍ وَّإِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات: ۴۸) اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔کائنات کو اس کے پھیلاؤ کے بعد پھر سے سمیٹنے اور اس کی صف کو لپیٹنے کے بارہ میں اس قادر مطلق نے فرمایا يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ۔كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُه وَعْداً عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (الانبياء: ۱۰۵) یعنی جس دن آسمان کو ہم اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح ہم نے پیدائش کو پہلی دفعہ شروع کیا تھا اسی طرح اس کو پھر دہرائیں گے۔یہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے۔ہم ایسا ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔سچ ہے: تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا ( الفضل انٹر نیشنل 31۔10۔97)