مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 52 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 52

52 پیدائش کا نظارہ کر رہے ہیں۔اس وقت وہ کیا ہے اور کیسا ہے وہ وہی دیکھ سکتا ہے جو چھ ارب سال بعد زمین پر سے مشاہدہ کرے گا بشرطیکہ تب تک ہماری زمین رہی تو جس کا امکان بہت کم ہے۔یہی حال دوسرے ان گنت ستاروں کا ہے۔جو کچھ آج ہم دیکھتے ہیں پتہ نہیں ان پر کتنا عرصہ گزر چکا ہوگا۔اگر سورج پر کوئی دھما کہ ہو تو ہمیں نو منٹ بعد دکھائی دے گا۔( غالب شاید سائنس دان بھی تھا جس نے کہا تھا ے ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکہ کھلا بہر حال سائنس دانوں کی ٹیم کائنات کے انتہائی دور کنارہ پر واقع Supernovae یعنی جلتے ہوئے ستاروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں تا یہ معلوم کریں کہ کہکشائیں کس رفتار سے ایک دوسرے سے پرے ہٹ رہی ہیں۔سپر نو و ا۱۹۹۵Kء بھی ایک کہکشاں کا حصہ ہے یہ سورج سے بھی دس کروڑ گنا زیادہ روشن ہے لیکن بوجہ دوری کے اس کی جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ اس روشنی سے بھی چالیس لاکھ گنا کم ہے جو ہماری تنگی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔لہذا اس کو دیکھنے کے لئے طاقتور دور بینوں کی ضرورت ہے۔جہاں تک ہمارے اپنے سورج کا تعلق ہے سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ مزید پانچ ارب سال تک روشنی دے گا اور پھر اس کا تیل ( یعنی اس کے اندر ہونے والا نیو کلائی عمل ) ختم ہو جائے گا اور یہ چراغ بجھ جائے گا (لہذا جو کام نبٹانے ہیں ابھی روشنی ہے جلدی جلدی نپٹالیں ) لیکن سائنس دان کہتے ہیں زمین کے باسیوں کو فکر کی ضرورت نہیں۔اس وقت تک انسان یا تو ارتقاء کے عمل کے نتیجہ میں بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ بدلتا ہوا کسی دوسری مخلوق کی صورت میں بدل چکا ہوگا یا مٹ چکا ہوگا۔پانچ ارب سال پہلے بھی وہ آج جیسا انسان کب تھا بلکہ صرف امیبا (Amoeba) تھا یعنی ایک ہی خلیہ (Cell) والا ایسا جاندار تھا جوصرف خوردبین سے نظر آسکتا تھا۔وہ آنکھوں سے مخفی ایک مخلوق تھی جو تازہ پانی، گیلی مٹی یا دوسرے جانداروں کے ساتھ چمٹ کے پلتا تھا۔ایسے ہی پانچ ارب سال بعد بھی ممکن ہے وہ آنکھوں سے مخفی کسی اور طرز کی مخلوق میں بدل چکا ہو جو آکسیجن وغیرہ سے بے نیاز خلا اور وقت (Space & Time) کی وسعتوں میں اڑتا پھرتا