مکتوب آسٹریلیا — Page 51
51 آسٹریلیا کی خلائی تحقیقات میں پیش رفت آسٹریلیا نے کینبرا کے نزدیک ایک رصد گاہ تعمیر کی ہے جس نے کچھ عرصہ قبل کام کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ رصد گاہ ایک بین الاقوامی منصوبہ کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ کائنات جو ایک بڑے دھما کہ (Big Bang) کے نتیجہ میں وجود میں آئی تھی اور اس وقت سے دھما کہ کی قوت کے زیر اثر ہر آن پھیلتی چلی جارہی ہے کیا یہ ہمیشہ ایسے ہی پھیلتی رہے گی یا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب کائنات میں بکھرے ہوئے بے پناہ مادہ کی کشش ثقل پھیلاؤ پیدا کرنے والی قوت پر غالب آجائے گی اور پھر اپنے آغاز کی طرح ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائے گی جس طرح کہ بگ بینگ سے پہلے تھی۔اس واپسی کے عمل کو آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے Big Bang کوالٹا کر Gnab Gib کا نام دیا ہے جب کہ دوسرے سائنس دان اس کو Big Crunch Big Squeez کا نام دیتے ہیں۔آسٹریلیا کے سائنس دان کہتے ہیں ہمارا دھرا ہوا نام دوسرے ناموں سے کم نہیں۔اس غرض کے لئے سائنس دان کا ئنات کے آخری معلوم کنارے پر واقع دس ستاروں کا مشاہدہ ومعائنہ کر رہے ہیں جن میں سے ایک کا نام انہوں نے ۱۹۹۵۷ء رکھا ہے اور چھ ارب سال پہلے بگ بینگ کے نتیجہ میں وجود میں آیا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی اب زمین پر پہنچی ہے اور وہ اس طرح نظر آرہا ہے جس طرح چھ ارب سال پہلے اپنی پیدائش کے وقت تھا گویا سائنس دان ایک ستارے کی