مکتوب آسٹریلیا — Page 333
333 کا اردو میں خلاصہ تیار کیا جسے ماہنامہ انصار اللہ نے اپنے اگست ۱۹۶۸ء کے شمارہ میں شامل اشاعت کیا۔اس کے پندرہ سال بعد جب میں لیبیا بغرض ملازمت گیا تو یہ کتاب میرے سامان میں تھی جس کا میرے بعض عرب دوستوں نے بھی مطالعہ کیا اور بہت ہی پسند کیا۔اور اپنے حلقہ احباب میں اس کا ذکر کیا۔ابھی دوسال پہلے ہی آسٹریلیا سے انگلینڈ گیا اور وہاں سے پاکستان آیا۔حضرت شیخ صاحب کی ملاقات کے لئے فیصل آبادان کے مکان پر حاضر ہوا بہت ضعیف اور بیمار تھے لیکن ذہن ہمیشہ کی طرح چاک و چوبند میری حاضری کی اطلاع ہوئی ایک لاٹھی کے سہارے چلتے ہوئے ملنے کے لئے تشریف لائے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔حال احوال کے بعد میں نے بتایا کہ آتے ہوئے حضور سے لنڈن میں شرف ملاقات حاصل ہوا۔حضور کے ذکر پر مٹھی بند کر کے فرمانے لگے ”حضرت صاحب نے جماعت کو خوب سنبھالا ہے حضرت صاحب نے بہت دکھ اٹھایا ہے۔شیخ صاحب کے قلبی تاثرات چہرے پر نمایاں تھے پھر خود ہی میرے اس ۲۳ سال پرانے ام الالسنہ والے مضمون کا ذکر فرمایا اور فرمانے لگے آپ نے میری تحقیق کو متعارف کرانے میں اچھا کام کیا ہے میں دل میں شرمندہ ہورہا تھا کہ محض حوصلہ افزائی فرما ر ہے ہیں ورنہ من آنم کہ من دانم۔ایک بار حضرت شیخ صاحب نے مجھے فرمایا کہ صاحب ایمان ہر لغو اور بے مقصد چیز یا کام سے اعراض کرتا ہے۔محض زیب وزیبائش کے لئے ڈرائنگ روم پر خرچ کرنا بھی لغو میں داخل ہے۔میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ حضرت شیخ صاحب کی ساری زندگی اس حکم الہی کی مجسم تصویر تھی۔آپ کا اپنا مکان اور درائینگ روم صرف ضرورت پوری کرنے کی حد تک تھا۔آپ کی رہائش گاہ فیصل آباد کے کسی چوٹی کے وکیل کا گھر نہیں تھا بلکہ ایک خدا دوست درویش کا ڈیرہ تھا آپ کا کلام مختصر اور بامعنی اور اوقات مصروفیات سے معمور ہوتے تھے۔وقت کو خدا کی امانت سمجھتے تھے کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے تھے ربوہ کسی میٹنگ کے لئے جارہے ہیں کار میں بیٹھے اور بیٹھتے ہی اپنا بستہ کھولا اور ام الالسنہ پر کام کرنا شروع کر دیا۔آپ کا ذہن بطور کمپیوٹر کے کام کرتا تھا۔لگتا تھا پوری عربی لغت اس میں محفوظ ہے۔کسی زبان کا کوئی لفظ دیکھتے اپنے فارمولے لگاتے اور فوراً اس لفظ کی عربی ماں تک پہنچ جاتے۔آپ خشک عالم نہ تھے بلکہ آپ کی مجلس میں پاک مزاح کی چاشنی بھی ہوتی۔جب خدام