مکتوب آسٹریلیا — Page 276
276 تو ہم پرستی کی بلا تو ہم پرستی عموماً جہالت اور شرک کی پیداوار خیال کی جاتی ہے اور یہ دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے۔سڈنی کے علاقہ ولوبی (Willoughby) میں چینی آبادکاروں کی تعداد ہر پانچ سال میں دگنی ہو رہی ہے۔انہوں نے کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے مکانوں اور گلیوں سے نمبر چار ختم کر دیا جائے کیونکہ وہ اسے منحوس سمجھتے ہیں۔چینی زبان میں ۴ کا عدد اور ”موت“ کا لفظ صوتی لحاظ سے باہم اتنے ملتے جلتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ میں چار نمبر کے مکان میں رہتا ہوں تو وہ سمجھے گا یہ کہہ رہا ہے کہ موت گھر میں رہتا ہوں۔اسی طرح اگر چینی اپنی زبان میں کہے کہ میں گلی نمبر رہ میں رہتا ہوں تو سننے والا یہ خیال کر سکتا ہے کہ شاید اس نے کوچہ مرگ میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔چنانچہ چینی آباد کاروں کا مطالبہ کونسل کے اجلاس میں پیش کیا گیا جس پر سخت تنقید کی گئی کہ عام طریق سے محض وہم کی بناء پر ہٹنا اکثریت کو چینیوں کے خلاف انگیخت کرنے والی بات ہے اور نظم ونسق میں بعض مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔چنانچہ کونسل کو کہا گیا کہ اپنے وہم کا علاج جادوٹو نے کرنے والے عاملوں سے کرا ئیں کونسل ان کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔چینیوں کے اکابر نے کہا کہ نمبر چار کی نحوست دور کرنے کا علاج اس طریق سے ممکن ہے کہ دروازے پر تعویذ ٹونا باندھ دیں۔ایک آئینہ لٹکا دیں۔کچھ ہم آہنگ گھنٹیاں باندھ دیں یا مکان کے نمبر کو سرخ پس منظر میں لکھ دیں۔چنانچہ کونسل سے مایوس ہو کر اب ٹونے ٹوٹکے اور تعویذ باندھنے والے عاملوں کو تلاش کیا جارہا ہے۔