مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 277 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 277

277 مختلف قوموں اور ملکوں میں کئی دلچسپ قسم کے وہم رائج ہیں۔صبح گھر سے کام پر جانے کے لئے نکلتے ہیں تو پیچھے سے کسی نے بلا لیا تو آپ کا کام نہیں ہوگا۔اگر پہلا گا ہک ادھار مانگے یا جھگڑا کرے تو سارا دن خراب گزرے گا۔اگر کالی بلی نے رستہ کاٹ لیا تو کام نہیں ہوگا۔خرگوش کے پنجے پر ہاتھ رگڑ نا خوش قسمتی کی علامت ہے۔صبح آٹا گوندھتے ہوئے باہر گر جائے تو مہمان آئے گا۔چھینک آنا بھی منحوس خیال کی جاتی ہے۔اگر لکڑی کو کھٹکھٹائیں یا سیٹھی کے نیچے سے نہ گزریں تو بری قسمت بدل سکتی ہے۔اتوار کے روز پیدا ہونا خوش قسمتی کی علامت ہے۔اگر شادی کے روز تقریب کے انعقاد سے پہلے دولہا دلہن ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو براشگون ہے۔جب آدمی مرتا ہے تو کھڑکیاں دروازے کھول دیں تا روح کو باہر نکلنے میں دقت نہ ہو۔نوزئیدہ بچہ کی پہلی بارسٹر ھیوں کے ذریعہ اوپر لے جایا جائے نہ کہ نیچے۔کسی کو بٹوا تحفہ میں دیں تو خالی نہ ہو کچھ نہ کچھ رقم اس میں ضرور ہو ورنہ ہمیشہ ہی بٹوہ روپے سے خالی رہے گا۔کئی لوگ سفر ۱۳ تاریخ کو یا جمعہ کے روز شروع نہیں کرتے۔ہوٹلوں میں ۱۳ نمبر کا کمرہ کئی بار خالی رہتا ہے۔جاپانی بھی چینیوں کی طرح چار کا عدد منحوس خیال کرتے ہیں۔اگر شادی کے مہمان نئے شادی شدہ جوڑے پر چاول پھینکیں تو ان کے ہاں بچے بہت ہو نگے۔شیشہ توڑنا یا نمک گرانا بد قسمتی کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ایک دیا سلائی سے تین سگریٹ سلگھانا بھی منحوس ہے۔وغیرہ وغیرہ۔وہم کی ایک شکل ” آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں۔“ کی ہے۔بہر حال ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان سب وہموں سے آزاد کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی اچھی یا بری شگون والی بات دیکھیں یا سنیں تو دعا کریں کہ اللهم لا طير ا لا طيرک ولا خیر الا خیرک ولا حول ولاقوة الا بالله “ کہ اے اللہ وہی بدشگونی ہے یا خیر ہے جو تیری طرف سے آئے اور تیری ہی ایک طاقت ہے جو ہمیں شر سے بچا سکے اور ضرر پہنچا سکے۔یعنی تیرے سوا کسی چیز میں کوئی ذاتی خیر وشر نہیں ہے اور اس دعا سے ہر وہم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔الحمد للہ۔( الفضل انٹر نیشنل 20۔9۔96)