مکتوب آسٹریلیا — Page 275
275 جمع ہوتی رہے اور دوبارہ آکسیجن میں تبدیل نہ ہوتو زندہ مخلوق شاید دم گھٹ کر مر جائے۔اس لئے جب سمندروں کے دوسرے فوائد پر غور کریں تو ان میں بسنے والی اس منخصی مخلوق کو بھی یاد کرنا نہ بھولیں) (ماخوذ از سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۰ را پریل ۲۰۰۵ء) خدا کی قدرت ہے کہ جس طرح سمندروں کی ۹۰ فیصد مخلوق نظر نہیں آتی مگر عظیم کارنامے سرانجام دیتی ہے اسی طرح کائنات میں بکھرا ہوا ۹۰ فیصد مادہ ایسا ہے جو کر وں کی شکل میں تو نہیں ڈھلا مگر کائنات کے استحکام میں کئی طریق سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔پھر ہر پودہ جواناج سبزہ یا پھل وغیرہ کا اگتا ہے اس کی جڑوں میں کروڑوں ننھے مزدور کام کر رہے ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر مٹی سے ان پودوں کے لئے غذا تیار کرتے ہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ بتاؤ تو جو کچھ تم بوتے ہو ان کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا کی مخلوق پر جتنا بھی غور کیا جائے دل سے یہی آواز آتی ہے کہ اے خدا! تیرا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : ۱۹۱) ( الفضل انٹر نیشنل 17۔6۔05)