مکتوب آسٹریلیا — Page 274
274 ان گنت مخلوق جو انسان کی خدمت پر مامور ہے سمندر کے اندر موجود نوے فیصد مخلوق اتنی چھوٹی ہے کہ ہم نگی آنکھ سے اسے دیکھ نہیں سکتے اس کا سائز ایک ملی میٹر کے دسویں حصہ سے لے کر اس کے ہزارویں حصہ تک ہوتا ہے۔ایک ایک خلیه والی مخلوق (Single Cell Organism) جس کو Protist کہتے ہیں اسے خوردبین سے دیکھیں تو ان کی عجیب و غریب اور پیچیدہ ڈیزائن والی شکلیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔کوئی لمبوتری گاجر جیسی کوئی بالکل گول، کوئی دائرہ کے باہر چھ پہلوؤں والی، کوئی گلوب یا ٹوکری جیسی شکل کی۔سمندر سے ایک گلاس پانی کا لیں تو اس میں یہ کئی کروڑ کی تعداد میں پچھد کتی نظر آئیں گی۔پچھلے چودہ سال سے آسٹریلیا کی ایک خاتون سائنسدان ان پر تحقیق کر رہی ہیں۔Fiona Scott کا کہنا ہے کہ اگر یہ بھی مخلوق نہ ہوتی تو سمندری جانوروں کے لئے خوراک نہ ہوتی اور زمین کی جاندار مخلوق کو آکسیجن نہ ملتی۔وہ کہتی ہیں کہ سمندری حیات کے لئے (جس پر انسانوں کا دارو مدار ہے ) خوراک کی تیاری کے سلسلہ کا آغاز اسی منفی مخلوق سے ہوتا ہے۔دوسرا بہت اہم کام جو یہ سرانجام دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ تمام ذی حیات مخلوق جو کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے سانس وغیرہ کے ذریعہ بناتی ہے اس کے نصف حصہ کو دوبارہ آکسیجن میں تبدیلی کرنے کا عظیم کارنامہ بھی یہی نھی مخلوق سرانجام دیتی ہے۔یہ انہیں کی پیدا کردہ آکسیجن ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں Fiona Scott ان جانداروں کو آکسیجن انجن کا نام دیتی ہیں ( اگر زمین کی ۵۰ فیصد کار بن ڈائی آکسائیڈ فضا میں