مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 215 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 215

215 کو دودھ پلانے والے جانوروں کا جڑواں تیار کرنے کا پہلا کامیاب تجربہ ہے۔چونکہ انسان بھی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے یعنی Mammal ہے اس لئے سائنسدان کہتے ہیں کہ اب یہ ممکن ہو گیا ہے ایک انسان کے جسم سے ایک ذرہ لے کر چند مراحل سے گزار کر عین اس طرح کا ایک اور انسان بھی پیدا کیا جاسکے گا۔پہلے یہ بات ناممکن سمجھی جاتی تھی اور صرف سائنسی افسانوں ہی میں اس کا ذکر ملتا تھا۔ڈاکٹر ولمٹ نے جس طرح اس مشکل کو حل کیا وہ کچھ یوں تھا کہ انہوں نے پہلے مرحلہ میں جس بھیڑ کا جڑواں بنانا مقصود تھا اس کے تھنوں سے اس کا DNA حاصل کیا اور اس کو لیبارٹری میں بڑھایا۔دوسرے مرحلہ میں ایک دوسری بھیٹر سے اس کا انڈہ حاصل کیا اور لیبارٹری میں جا کر اس کا اپنا DNA اس میں فٹ کر دیا۔پھر ٹیسٹ ٹیوب کے عمل کی طرح اس جنین کی افزائش کی۔تیسرے مرحلہ میں ایک تیسری بھیڑ لی اور یہ جنین اس کے رحم میں منتقل کر دیا۔اس بھیٹر نے متبادل ماں Surrogate Mother کا کردار ادا کیا اور اس نے جولائی 1999ء کو گڑیا کو جنم دیا۔اس ڈرامہ میں تین مادہ بھیڑوں نے حصہ لیا جب کہ کسی نر بھیڑ کا کوئی عمل داخل نہ تھا۔کہا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا طریق سے ایک بہترین جانور سے عین اسی طرح کے ہزاروں جانور پیدا کئے جاسکتے ہیں اور اس طرح گوشت زیادہ مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ جانوروں میں انسانی جینز اور ان کی خصوصیت شامل کر کے ایسے جانور پیدا کئے جاسکتے ہیں جو نیم حیوان نیم انسان ہوں گے اور ان کے اعضاء دل گردہ وغیرہ انسانوں کے جسموں میں لگائے جاسکیں گے جو اگر زیادہ عرصہ کام نہ بھی کریں تو اتنی مہلت مریض کو دے دیں گے کہ اس کے جسم کے لئے قابل قبول انسانی اعضاء مہیا ہو سکیں۔اس کے علاوہ جینز کی تبدیلیوں سے جانوروں کا دودھ اس قابل بنایا جا سکے گا کہ اسے بطور دوا استعمال کیا جا سکے۔مذکورہ بالا تجر بہ حیران کن تھا۔اس کی کامیابی کا سن کر پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر آف بیالوجی ڈاکٹر لی سلور (Dr۔Lee Silver) نے کہا کہ اس خبر پر یقین نہیں آتا کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سائنس کے اس شعبہ میں کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔سب حدیں ٹوٹ چکی ہیں اور جو کچھ سائنسی افسانوں میں لکھا گیا تھا وہ سب سچا ثابت ہو رہا ہے۔گویا افسانے حقیقت بن رہے ہیں۔لوگ کہتے تھے ایسا ہو ناممکن نہیں لیکن سائنسدانوں نے ۲۰۰۰ء سے بھی پہلے یہ کر دکھایا۔