مکتوب آسٹریلیا — Page 216
216 ب سے زیادہ فکر کی بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ کہ اگر بھیڑ والا تجربہ انسانوں پر بھی کامیاب ہو جائے تو پھر انسانوں کے مثنی بھی بنے لگیں گے اور اس سے بہت سے سماجی اور اخلاقی مسائل جنم لیں گے۔یہ تجربہ انسانوں پر کس کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص کے گردے بریکار ہو گئے ہیں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور موت یقینی نظر آ رہی ہے۔ڈاکٹر اس کے جسم سے ایک ذرہ لے کر اور اس کی بیوی کا بیضہ لے کر اس کا DNA نکال دیتے ہیں اور مریض کا اس کی جگہ فٹ کر کے ٹیسٹ ٹیوب میں جنین تیار کرتے ہیں۔اس جنین کو مریض کی بیوی کے جسم میں منتقل کر دیتے ہیں جو وقت پر ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔یہ بچہ مریض کی جینیاتی نقل ہوگا اس لئے اس کا نتھا گردہ جہاں پر وہ آہستہ آہستہ بڑھ کر پورے سائز کا ہو جائے گا۔چونکہ نیا گردہ مریض کے اپنے ہی جسم کا گویا ایک حصہ ہوگا اس لئے جسم اسے رد نہیں کرے گا۔لیکن اس عمل میں نوزائیدہ بچہ کی جان جائے گی جب کہ مریض کی جان بچ جائے گی۔اگر وہ مریض شادی شدہ نہ ہواور پیسے خرچ کر سکتا ہے تو کسی دوسری عورت کی خدمات بھی کرایہ پر حاصل کر سکتا ہے۔گویا انسانوں کے بچوں کو پیدا کر کے ان کے اعضاء کو بطور سپئر پارٹس کے استعمال کیا جا سکے گا جو نہایت ہی بھیانک خیال ہے۔وہ بچہ بھی قیامت کے دن سوال کر سکتا ہے کہ خدایا مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟ دوسری مثال فائدہ کا پہلو اپنے اندر رکھتی ہے۔فرض کریں ایک بچہ کو لیکومیا (Leukeemia) کی بیماری ہے اور کوئی علاج کارگر نہیں ہورہا۔اس کی ریڑھ کی ہڈی کا مغز (Bone Marrow) اگر تبدیل ہو جائے تو جان بچ سکتی ہے لیکن ایسا جو جسم قبول کرے میسر نہیں آرہا۔اب اس نئے تجربہ کے مطابق اس بیمار بچے کے جسم کا ایک ذرہ سے اس کی والدہ اس جیسے ایک اور بچے کو جنم دیتی ہے ( باپ کی ضرورت یہاں پر بھی نہیں ہے ) نوزائیدہ بچہ چونکہ مریض کا جڑواں ہے اس کے جسم سے مغز لے کر مریض میں جب منتقل کیا جائے گا تو وہ شفایاب ہو جائے گا اور نوزائیدہ بچہ کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ٹی۔وی کے ایک پروگرام میں اس مسئلہ پر دلچسپ گفتگو ہورہی تھی تو ایک صاحب نے کہا کہ اگر اس طریق سے دس ہیں صدام حسین اور وجود میں آجائیں تو پھر کیا ہو۔اور ایسے ہی چونکہ ہزاروں سال پہلے فوت ہوئے شخص کے جسم سے بھی DNA حاصل کیا جاسکتا ہے اگر سو، دوسو آئن