مکتوب آسٹریلیا — Page 190
190 آسٹریلیا کے باسیوں کی خدمت میں شہد کی مکھی کا حصہ حال ہی میں نیوساؤتھ ویلز ( آسٹریلیا) کی حکومت نے آبادیوں کے قریب بعض جنگلوں اور پارکوں میں شہد کی مکھیاں پالنے کے ممانعت کی ہے۔سائنسدانوں نے اس حکم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ایسا کرنے سے اس علاقہ کی زرعی فصلوں کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں ہر سال ۲۷۰۰ ملین ڈالر کی فصلیں شہد کی مکھی کی مرہون منت ہیں۔یہ لکھیاں ان فصلوں کو گا بھن یا بارور (Pollinate) کرتی ہیں جس کے بغیر کسی فصل کو پھل نہیں لگ سکتا۔اگر ان مکھیوں کو ختم کر دیا جائے یا دور بھیج دیا جائے تو دس سال کے عرصہ میں یہ فصلیں پھلوں سے محروم ہونا شروع ہو جائیں گی۔علاوہ ازیں آسٹریلیا ہر سال ان مکھیوں کی بدولت ۲۴ ملین ڈالر کا شہد پیدا کرتا ہے اور چھ لین ڈالر کی زندہ مکھیاں دوسرے ملکوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔یادر ہے کہ شہد کی مکھی دوسوسال پہلے آسٹریلیا میں لائی گئی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فصلیں اپنی پیدائش سے لے کر پکنے تک بے شمار خاموش اور مفت مزدوروں کی مرہون منت ہیں۔جہاں فصلیں آسمان کے پانی گا بھن کرنے والی ہواؤں ،فضا میں نائیٹروجن بکھیر نے والی کڑک سورج کی روشنی وغیرہ کی محتاج ہیں وہاں ایک ایک پودے کے لئے غذا تیار کرنے والے لاکھوں بکٹیریا جو مٹی میں سرگرم عمل ہوتے ہیں اور مکھیوں اور پرندوں وغیرہ کی بھی محتاج ہیں۔