مکتوب آسٹریلیا — Page 143
143 تدارک کر لیا گیا۔حکومت آسٹر یلیا کو شکایت ہے کہ ماسکو، بیجنگ، وارسا، بلغراد، انقرہ، ہنوئی ، رنگون ، جاکر تہ اور براسیلیہ میں ان کے سفارت خانوں کے خلاف جاسوسی کا روائیاں کی گئیں۔دو مقامات پر ایسے سیف نصب کئے گئے تھے جو آسانی سے کھولے جاسکیں۔اس کے بالمقابل کینبرا آسٹریلیا میں چین کے سفارت خانے کے خلاف امریکہ نے جاسوسی کے آلات آسٹریلیا کی ملی بھگت سے نصب کئے تھے۔چین نے ۱۸ ملین ڈالرخرچ کر کے کینبرا میں اپنے سفارت خانہ کی عمارت بنائی۔امریکہ نے پانچ ملین ڈالر لگا کر اس کے ہر کمرے میں Fiber Optical Listening Devices یعنی فائبر آپٹک کے سننے والے آلات نصب کروادئیے۔وہاں کی ہر بات ایک باہر کے مقام پر پہنچتی تھی اور وہاں سے براہ راست امریکہ پہنچتی تھی۔امریکہ اپنے کام کی باتیں رکھ لیتا اور دوسری آسٹریلیا کو بھی بتادیتا۔اس سودے میں آسٹریلیا کو گھاٹا رہا۔کہتے ہیں آسٹریلیا نے چین کو سستے داموں گندم بیچنے کی بات چیت کی۔امریکہ کو اس جاسوسی نظام کے ذریعہ علم ہو گیا اور اس نے مزید ستی کر کے (Subsidy دے کر ) چین کو بیچ دی۔پھر امریکہ اور آسٹریلیا میں اس معاملہ میں شکر رنجی بھی ہوئی۔بہر حال حیرانی ہوتی ہے کہ ان قوموں کے کان کتنے لمبے ہیں۔ایک بند کمرہ میں آسٹریلیا میں ایک بات ہوتی ہے اور وہ اس وقت ہزاروں میل دور امریکہ پہنچ جاتی ہے۔خیال سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو خدا نے کیا کیا طاقتیں دی ہیں۔ایک سائنس دان جب کان کی بناوٹ پر غور کر رہا تھا تو اچانک پکار اٹھا کہ وہ خدا جس نے یہ کان بنایا ہے اور اس کو قوت سماعت بخشی ہے کیا وہ خود نہیں سنتا ہوگا ؟ وہ ضرور سنتا ہے وہ سمیع و بصیر ہے جو کچھ انسان کو ملا ہے اس کی ہلکی سی جھلک ہے۔( الفضل انٹرنیشنل)