مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 142 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 142

142 حکومتوں کی ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کا روائیاں یوں تو حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کیا ہی کرتی ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل ایک دو بہت دلچسپ واقعات اخباروں میں آئے ہیں۔ذرا آپ بھی سن لیجئے۔جا کر نہ انڈونیشیا میں جاپان اور آسٹریلیا کے سفارت خانے ایک دوسرے سے ۶۰۰ میٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں۔بظاہر تو یہ ناممکن سی بات لگتی ہے کہ آسٹریلیا کے سفارت خانے کے اندر کمرے کی کھڑکیاں بند کر کے دو آدمی باتیں کر رہے ہیں تو ۶۰۰ میٹر دور جاپان کے سفارت خانے میں وہ باتیں صاف سنائی دیں لیکن ایسا ہوا اور پتہ نہیں کتنی بار ہوا۔جوطریق اس غرض کے لئے اپنا یا گیا وہ یہ تھا کہ جاپانی سفارت خانے سے بعض شعائیں Infra Red Beam آسٹریلیا کے سفارت خانے کے ایک شیشہ کی بند کھڑکی پر پھینکی گئیں۔اس کمرہ میں دو آدمی باتیں کر رہے تھے جس سے شیشہ میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔انفراریڈ شعائیں اس ارتعاش کو لے کر واپس جاپانی سفارت خانہ پہنچیں وہاں ان کو مختلف آلات Processors and Filters میں سے جب گزارا گیا تو باتیں صاف سنی گئیں۔آسٹریلیا والے جب جاسوسی سے متعلقہ عام معائنہ کر رہے تھے تو انہیں ان شعاؤں کا شک گزرا۔چنانچہ انہوں نے کھڑکیوں پر ایسے خاص شیشے (Lens) لگا دئیے جو انفراریڈ شعاؤں کو محسوس کر لیتے ہیں۔چنانچہ ان کو پتہ لگ گیا کہ جاپانی سفارت خانے کے مختلف کمروں سے آسٹریلیں سفارت خانے کے ایک خاص کمرے پر با قاعدہ شعائیں پھینکی جاتی ہیں۔چنانچہ اس کا