مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 127 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 127

127 یہ جدید تحقیقات کئی پرانے تصورات پر کاری ضرب لگاتی ہیں۔مثلا یہ تصور کہ نسل صرف بیٹوں سے چلتی ہے بیٹیوں سے نہیں۔اگر ماں باپ دونوں کی طرف سے جینز یکساں طور پر منتقل ہوتے ہیں تو ان کی نسبت بھی یکساں ہوئی۔یوں مرد و عورت کی نسل لڑکے اور لڑکی اور ان کی اولادوں میں یکساں طور پر چلتی چلی جاتی ہیں۔اور نسلی تعلق کے لحاظ سے بیٹے بیٹی اور پوتے نواسے میں کوئی فرق نہ رہا۔لیکن ایشیائی اور افریقی ممالک میں کتنے لوگ ایسا سمجھتے ہیں ! ؟ ماں باپ دونوں کی طرف سے یکساں جین اولاد میں منتقل ہونے کی تھیوری نے رحمی تعلقات کی اہمیت بھی خوب اجاگر کی ہے۔رشتہ دار باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے دونوں کے ساتھ آپ کے جین یکساں طور پر مشترک ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی کو اپنی زبان یا ہاتھ سے دکھ پہنچانا ایسے ہی ہے جیسے خود اپنے وجود کے ایک حصہ کو خارش کرتے کرتے زخمی کر دینا۔الغرض صدیوں سے جو تصورات چلے آتے ہیں ان کا اگر جدید سائنسی انکشافات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو کافی دلچسپ باتیں سامنے آسکتی ہیں۔صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لئے ( الفضل انٹر نیشنل 2۔1۔98)