مکتوب آسٹریلیا — Page 126
126 طرح کا جواب ملا ہے کہ میرا باپ سکاٹ لینڈ سے تھا اور ماں اٹلی سے۔بلکہ اپنی دادی نانی کا بھی بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ فلاں فلاں ملک سے تھے۔اس لحاظ سے تو تمام انسان ایک ایسے سمندر کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں جس میں سب دنیا کے پانی خلط ملط ہو چکے ہوں۔اب ذرا اس میں کوئی مختلف براعظموں، ملکوں اور جزائر کے پانیوں کو الگ الگ کر کے دکھائے تو جانیں۔گویا ذات پات قبیلے محض شناخت کے لئے رہ جاتے ہیں۔اور ان کی یہی غرض قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے۔وحدت انسانی کے سلسلہ میں ایک اہم ریسرچ کا ذکر بھی یہاں مناسب ہوگا۔سائنس دانوں نے ۱۹۸۷ء میں ایک تحقیق شائع کی تھی جس سے ثابت ہوا تھا کہ دنیا بھر میں جو مختلف رنگ ونسل کے لوگ پھیلے ہوئے ہیں ان میں ایک ایسا جین (Gene) مشترک ہے جو صرف ماں ہی بچے کو منتقل کر سکتی ہے۔(یعنی Mitochondria) گویا تحقیق سے یہ تصور درست معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی ماں کی اولاد ہیں۔سائنس دانوں نے بھی اس ماں کا نام Eve یعنی حوا رکھا ہے۔اس تحقیق کے آٹھ سال بعد ۱۹۹۵ء میں دنیا کی تین معروف یونیورسٹیوں ,Yale, Harward) Chicago نے (Y-chromosome) وائی کروموسوم کا تجزیہ کیا جوان ۳۸ مردوں سے لئے گئے تھے جن کا تعلق مختلف قوموں اور نسلوں سے تھا۔وائی کروموسوم وہ ہوتے ہیں جو جنین (Embryo) کولڑ کا بناتے ہیں۔تینوں یونیورسٹیوں کی تحقیق نے ثابت کیا کہ اپنی ولدیت میں بھی سب انسان مشترک ہیں۔لیکن اس بار اس جد امجد کا نام انہوں نے آدم نہیں رکھا۔بلکہ یہ خیال ظاہر کیا کہ دنیا کے سب انسان شاید چند ہزار پرمشتمل ایک گروپ کی شاخیں در شاخیں ہیں جن میں باپ کی طرف سے ایک قدر مشترک تھی۔پچھلی تحقیق کو موجودہ سے ملا کر اگر دیکھا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے انسان خواہ وہ کسی ذات پات یا ملک و قوم کے ہوں ان میں ماں باپ دونوں کی طرف سے ایک قدر مشترک ضرور موجود ہے۔چنانچہ اخبار نے اس رپورٹ پر جو عنوان جمایا وہ تھا We are) all Related یعنی ہم سب انسان باہم رشتہ دار ہیں۔(ماخوذ از واشنگٹن پوسٹ۔لاس اینجلیز ٹائم بحوالہ سڈنی مارٹنگ ہیرلڈ ۲۷ رمئی ۱۹۹۵ء) معلوم ہوتا ہے یہ قدر مشترک وہی ہے جس کا ذکر خدا نے یوں فرمایا ہے ”اے لوگو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کر جس نے تمہیں ایک ہی جان (نفس واحدہ ) سے پیدا کیا۔۔۔( النساء:۲)