مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 142

مجالس عرفان — Page 90

9-۔اور بڑے کی شادی بعض سماجی قباحتوں کی وجہ سے شرم نا جائز ہے۔یہ ادے بدلے کی شادی کا قرآن کریم میں تو کوئی ایسا محکم نہیں جو اس پر وہ روشنی ڈالے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن معنوں میں فرمایا ہے و ان معنوں میں منع فرمایا ہے جن معنوں میں آج کل ہمارے جھنگ کے علاقے میں بھی رواج ہے۔بعض تو اتفاقی ہوتا ہے کہ ایک گھر میں ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے اور دوسرے گھر میں بھی ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت معلوم ہوتی ہے اور وہ غور کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔یہ دونوں کے لئے اچھا ہے۔جس شادی کو منع کیا ہے اور اس کا عرب میں بھی رواج تھا اور آج کل ہمارے بعض پسماندہ Backward ضلعوں میں بھی جہالت کی وجہ سے اس کا رواج ہے کہ ایک بڑھا ہے بھائی اور ایک چھوٹی عمر کی بیٹی ہے۔اور وہ شادی کی خاطر مجبور کرتے ہیں کہ تم اپنی چھوٹی بہن جس کے ساتھ کوئی پچاس ساٹھ سال کا فرق ہے وہ دو تو پھر ہم اپنی بہن تمہیں دیں گے۔اس قسم کی شادیاں ہوتی ہیں۔اور یہ بھی شرط ہوتی ہے کہ اگر کسی کی بہن کی اپنے خاوند سے معاشرت ٹھیک نہ ہو تو یہ گھر آئے گی تو دوسری بھی بے چاری مظلوم بے وجہ دوسرے کے گھر پہنچ جائے گی۔کیونکہ اس طریق کار میں لیے وعید سوسائٹی میں دکھ پیدا ہوتا تھا اور ظلم ہوتا تھا شادیوں کے پیوند میں بھی اور ان کے پیوند ٹوٹنے میں بھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو منع فرمایا۔ابھی بھی اگر کوئی یہ کرے تو نا جائز ہے۔۔