مجالس عرفان — Page 91
او ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میں کافی حد تک احمدیت کے قریب ہوگئی تھی بشر خواب بھی آئے۔مگر مرزا صاحب کی کتابوں سے تاثر یہ لیا کہ زبان نیوں والی نہیں ہے جہاں انہوں نے یہ کہا کہ میرے نہ ماننے والے کون ہیں یعنی آگے انہوں نے۔۔۔۔لکھا ہوا ہے یا شاید وضاحت کی ہوئی ہے آخر میں لکھا ہوا ہے۔کیوں اور بلیوں کی اولاد ہیں۔حضور نے فرمایا۔امرواقعہ کا اظہار گالی نہیں ہوتا معلوم ہوتا ہے ان خاتون نے غیر احمدی علماء کی وہ کتابیں پڑھی ہیں جس میں وہ بعض فرضی حوالے اور بعض حوالوں کے غلط ترجمے تو مروڑ کر حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور پھر جو بات عیسائیوں کے متعلق کی جارہی ہے وہ اشتعال دلانے کی خاطر مسلمانوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہ جو طریق ہے۔اس طریق سے تو کبھی بھی صداقت معلوم نہیں ہوگئی۔اگر یہ خاتون اصلی کتابیں پڑھتیں تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ ایسی کوئی بات حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے کسی مسلمان کے متعلق کبھی نہیں لکھی۔جو اس سے ملتے جلتے یہ الفاظ تو نہیں ہیں، لیکن جو سخت الفاظ آئے ہیں وہ میں بناتا ہوں کہاں آئے ہیں۔عیسائیوں کے ساتھ جب حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہوں کا مناظرہ ہو رہا تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں شدید گستا بیاں کر رہے تھے اور امہات المومنین پر حملے کر رہے تھے تو چونکہ ہم سب نبیوں کو مانتے ہیں، اس لئے ان کا بدلہ نبیوں سے تو اتار نہیں سکتے۔اس لئے حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہوں نے حقائق کی روشنی میں جو ان کے اپنے مسلمہ حقائق