مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 142

مجالس عرفان — Page 77

46 کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اب کسی قسم کا کوئی بنی بھی نہ پرانا نہ نیا نہ اُمتی نہ بغیر اُمتی کوئی نہیں آئے گا اور اس پر ساری اُمت کا اتفاق ہے۔یہ دروازے بند ہو چکے ہیں اور وحی بھی بند ہو گئی ہے کیسی قسم کی وحی نہیں ہو گی۔تو اس کے بعد یہ نیا شوشہ چھوڑ دینا کہ ایک بنی آگیا خواہ وہ اپنے آپ کو امتی بھی کہے تب بھی یہ امت کے متفق علیہ فیصلے کے خلاف ہے۔اور کیونکہ اس کے نتیجے میں آیت خاتم النبیین کا انکار لازم آتا ہے اس لئے یہ غیر مسلم ہیں۔یہ تھا اصل فیصلہ جو غنیات ہے ہمیں غیر مسلم قرار دینے کی جماعت احمدیہ کا اس کے مقابل پر کیس کیا ہے، ہم کیا کہتے ہیں اور واقعتاً یہ لوگ ہمیں غیر مسلم کہنے میں حق بجانب ہیں کہ نہیں۔یہ ہیں آج آپ سے عرض کرتا ہوں جس طرح اس بہن نے سوال کیا ہے ، امر واقعہ ہے کہ باقی سارے قرآن پر عمل، شریعت پر عمل ہمارے تمام بنیادی عقائد ایمانیات سب ایک ہیں اور Fundamentals میں کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔ہم بھی اسی پنجگانہ نماز کے قائل ہیں جس طرح آپ ہیں۔اُسی روزے کے قائل ہیں۔اُسی حج کے قائل ہیں اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب انبیاء سے افضل اور خاتم الرسل یقین کرتے ہیں۔ایمان ، جو بالآخرت ایمان بالغیب کوئی بھی ذرہ نہیں تو مبادیات اور Fundamentals سے تعلق رکھتا ہو ، اس میں ہمارا اختلاف ہو۔تو اس لئے عام لوگوں کو سب کو دیکھ کر یہ تعجب پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ دے دیا گیا ہے اور دیکھنے میں جب ہم قریب آتے ہیں تو ان کی نمازیں وہی روزے وہی بیہا الصلواة اسی طرح اذان اسی طرح تو یہ فیصلہ کیوں دیا گیا ؟ اب اس خطرے کو محسوس کر کے آج کل علماء یہ بھی تحریک چلا رہے ہیں کہ ان کی اذانیں بھی