مجالس عرفان — Page 76
<4 جو نیشنل اسمبلی اس مسئلے پر غور کرنے کے لئے بیٹھی تھی اس میں متفرق فرقوں کے نمائندے بھی شامل تھے ، اگر چہ فرقوں کے نمائندے کے طور پر نہیں۔مگر نمبر اسمبلی کی حیثیت سے۔ہر فرقے ہر خیال کے لوگ تھے۔علماء بھی تھے اور جہلاء بھی بیچ میں تھے۔ایسے بھی تھے جو کبھی نماز کے قریب نہیں گئے۔ایسے بھی تھے جو دہریہ تھے۔ایسے بھی تھے جو رشوت لیتے ہیں سفارشیں بیچ کر پیسے کھانے والے بھی بہت تھے۔ایک بہت دلچسپ قسم کی اہمیلی تھی جس میں بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا اور وہ بیٹھی اس بات پر فیصلے کے لئے کہ ہم لوگ مسلمان ہیں یا نہیں ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نور اللہ مرقدہ ہو میرے بڑے بھائی بھی تھے ان کے ساتھ جو چار دوسرے جماعت کے خدام گئے ان میں ایک میں بھی تھا۔ساری اسمبلی میں میں موجود رہا۔تو باہر کی دنیا کے سامنے تو صرف یہ بات آئی کہ پاکستان کی نمائندہ اسمبلی نے اور بڑے بڑے علماء نے غور کرنے کے بعد ایک فیصلہ دے دیا ہے اور جو ان کا فیصلہ ہے وہ درست ہے۔اس کے بعد یہ بحث فضول ہے کہ یہ مسلمان میں یا نہیں ہیں۔فیصلہ کیوں دیا گیا اور فیصلہ دینے والے کس حد تک حق بجانب تھے یہ چند باتیں میں آپ کے سامنے کھول دیتا ہوں۔جماعت احمدیہ کا امل عقیدہ بنیاد یہ بنائی گئی کہ خاتم النبیین کے متعلق جماعت احمدیہ کا عقیدہ باقی سب مسلمانوں سے اتنا مختلف ہے کہ اس کے بعد ان کے لئے مسلمان کہلانے کا حق باقی نہیں رہتا۔سارے مسلمان بلا استثناء اس بات کے قائل ہیں