مجالس عرفان — Page 49
۴۹ ایک خاتون نے تمانہ کے وقت گزرنے کے خیال سے کہا۔"نماز قضاء ہورہی ہے۔پہلے نماز پھر اور کچھ حضرت صاحب نے نمانہ کے وقت کے متعلق فقہی مسئلہ سمجھاتے ہوئے فرمایا۔نماز مغر کے وقت کی تعیین لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہمارا مسلک اور ہے، اور آپ کا مسلک اور ہے اور ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں لیکن یہ بالکل درست نہیں ہے۔مسلمان حنفی فرقے، شافعی فرقے، خیلی فرقے ، ان سب فقہی سنی فرقوں میں اس بارے میں اتفاق ہے۔کہ شفق شام مغرب کی نماز کا وقت ہے۔لیکن شفق شام کیا ہے، اس میں نمایاں اختلاف ہے۔اور مسلمان فقہی فرقے یہ کہتے ہیں کہ سُرخی شفق نہیں ہے بلکہ سفیدی شفق ہے۔جب تک عشاء کی نمانہ کا وقت نہیں شروع ہوتا مغرب کا وقت رہتا ہے۔چنانچہ کروڑوں مسلمان اس مسلک کے قائل ہیں۔اور ہم بھی اسی مسلک کے قائل ہیں کہ نماز کا اول وقت ہے شفقت کا وقت جو سُرخی کا ہے۔اور دوسرا وقت ہے سفیدی کا وقت اور صبح کی نمازہ سے ہم ثابت کرتے ہیں کہ شفق سفیدی سے شروع ہوتی ہے نہ کہ سُرخی ہے۔تہجد کا وقت کب ختم ہوتا ہے۔جبکہ پہلی سفیدی کی ہر ظاہر ہوتی ہے نہ کرسرخی کی لہر۔اس لئے ہمارے نزدیک مغرب کا وقت موجود ہے۔ہم جب نماز پڑھیں۔گئے تو مغرب کی پڑھیں گے۔اور ہم اکیلے نہیں ہیں اس ہیں۔اہلحدیث اس کے خلاف ہیں لیکن تمام حنفی اہلحدیث کے علاوہ اسی مسلک کے قائل ہیں جس کے ہم قائل ہیں۔آپ پوچھ پیچھے کسی صنفی عالم سے وہ کہتے ہیں، جب تک