مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 142

مجالس عرفان — Page 47

میں الگ حیثیت رکھتے ہیں ہم یہ مانتے ہیں کہ جس امام نے آنا تھا وہ آچکا ہے اور امام خدا بناتا ہے۔اگر آج یہ نہیں آیا اور کل وہ امام آجائے جس کا آپ انتظار کر رہی ہیں تو آپ کا بعینہ یہی فتوی ہو گا جو ہمارا فتویٰ ہے کہ جو بھی امام کا منکر ہو گا۔اس کے پیچھے نہ آپ کی نمازہ ہوگی، نہ آپ کا نماز جنازہ ہو گا ، نہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گی اور اس کے باوجود دوسروں کو غیر مسلم نہیں کہیں گے۔یہ ہیں ogical Condusion منفی نیتوں جو ہم نکالتے ہیں اگر ہم اپنے ادھا میں دیانتدار ہیں کہ یہ شخص وہی امام ہے جس کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی تو اس کے شکرین کے پیچھے ہماری نمانہ نہیں ہوسکتی۔جس کو خدا نے امام بنایا ہو اس کے منکر کا نہ جنازہ جائز ہے نہ نماز جائز۔لیکن دعا کرنی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے یہ فرق ہے۔باقی فرقے دعا کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے صرف عبادتوں سے روکا ہے۔دُعا کی تلقین فرمائی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام بنی نوع انسان کے لئے دُعا کرتے تھے مشرکین کے لئے بھی دُعا کرتے تھے۔بددعا نہیں کرتے تھے۔تو ہم تمھی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔دُعاؤں کی تلقین کرتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیرمسلم تمام دنیا کے انسانوں کے لئے مسلمان کی دُعا پہنچنی چاہیے۔مگر جنازے کا اور پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ امامت کے نتیجے میں ہمارے نز دیک جائز نہیں ہے اور ہم تمام دنیا کے مسلمان فرقوں سے پوچھ چکے ہیں اور آج آپ بھی پوچھ سکتی ہیں۔ہر ایک کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر امام نہیں ہے۔تو جب بھی امام آئے گا اس کے منکرین کے پیچھے اس کو ماننے والوں کی نمازہ نہیں ہو سکتی۔نہ ان کے منکرین کی نماز جنازہ کی ان کو اجازت ہوگی لیکن صرف یہی نہیں حضور اکرم صلی ال علیہ وسلم کا مسلک تو یہ تھا کہ جولین دین میں کمزور تھا اس کی بھی نمازہ جنازہ