مجالس عرفان — Page 45
گئے۔ابو جہل نے یہ بیان دیا کہ خدا کی قسم جب میں انکار کرنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ آپ کے دونوں جانب مست اونٹ ہیں جو غصے سے میری طرف بڑھنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور میں اتنا خوف زدہ ہوا کہ میرے لئے مانے بغیر چارہ نہیں تھا۔یہیں ہمارا مسلک یہ ہے کہ انبیاء علیہ اسلام دنیا کے جادو گروں کی زد سے پاک ہوتے ہیں۔اور جو جادو بیان کیا جاتا ہے ہم بناتے ہیں وہ واقعہ کیا تھا۔واقعہ یہ ہے کہ یہودیوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا اور اس کے اثر سے آپ کے معدے پر بھی اثر پڑا۔اور یادداشت میں بھی کچھ دیر کے لئے ذہول آگیا۔احادیث میں یہ ملتا ہے کہ آپ بعض باتیں بھول جاتے تھے۔اس موقع سے فائدہ اٹھا کہ یہودیوں نے شرارت کے ساتھ ایک کنویں میں بہت سارے ٹوٹے ٹوٹکے پھینک دیئے۔یہ ان کے جادو کا نتیجہ تھا۔حالانکہ وہ نتیجہ تھا اس ظاہری وجہ کا جو حضور اکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر استعمال کی گئی اور یہود آپ کی بھول کو اپنے جادو کا کرشمہ بیان کرنے لگے اور صحابہ میں عجیب و غریب باتیں ہونے لگیں کہ یہودی کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارے رسول کو جادو کر دیا ہے۔خاتم النبیین پر جادو کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اللہ تعالے نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ جھوٹ بول صبح میں کہا کہ ہم ان کا پول کھولتے ہیں اور سول اند کو خبر دی کہ فلاں کنویں میں جس کو یہ جادو کہہ رہے ہیں وہاں کچھ ٹونے ٹوٹکے پڑے ہوئے نہیں جانتے دیکھے اور اور رسول کریم صحابہ کونے کہ گئے اور وہاں سے نکلوا کر دکھا دیے مگر ہرگز یہ ثابت نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک اس کے نتیجے میں حضور کو دھول ہو ا تھا۔اس سے پہلے دھول ثابت ہے اور یہ کہ یہودیوں