مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 142

مجالس عرفان — Page 18

IA حضرت ملا علی قاری، اس مقام کے لوگ اس آیت کا بعینہ یہی ترجمہ کر چکے ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جو آدھے گھنٹے میں ختم کیا جا سکتا ہے۔اس میں تمام گزشتہ امت کے چوٹی کے بزرگوں کے حوالے موجود ہیں جو اس مضمون سے تعلق ہیں۔جوئیں بیان کرنے لگا ہوں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر قسم کی نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی ہے۔یہ اس سے بات شروع کرتے ہیں۔اہلِ علم کے نزدیک یہ نہیں ہے۔عوام الناس یہ سمجھتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ کیا ہے پھر مطلب ؟ مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ دستم کی شریعت آخری ہو گئی۔اب کوئی بھی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا۔ہاں اُمتی ہو تو آسکتا ہے۔اتنی کھلی بات اگر نو فیصد ی قطعی حوالوں سے ہم گزشتہ بزرگوں کے متعلق ثابت کردیں تو اب انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یا تو اسی تلوار سے ان کو بھی کاٹو یا ہماری گردن بھی آزاد کرو۔یہ پھر کیسی بے انصافی ہوگی کہ وہی بات جو آپ کے مسلمہ بزرگ ہمیشہ سے کہنے چلے آئے اس پر وہ مسلمان کے مسلمان رہے اور آج وہی بات کہنے پہ ہم کافرہو گئے اور جوان کے مخالف باتیں کر رہے ہیں۔وہ مومن کے مومن ٹھہرے۔اس لئے انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہیں۔اگر تحقیق چاہتی ہیں تو ان حوالوں کو دیکھیں اور پھر سوچیں کہ آخر اس کا کیا مطلب بنتا ہے۔آج کی دنیا میں بھی لفظ خاتم کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے بھی ایک آسان طریقہ آپ کو بتاتا ہوں۔میں نے خود استعمال کر کے دیکھا ہے۔آپ بھی بغیر کسی عالم دین یا عرب کو بتائے بغیر اس سے ایک سوال کریں گی تو اس سے آپ اپنا مطلب پا جائیں گی۔میں نے یہ طریق اختیار کیا۔یونیورسٹی آف لنڈن کے ہمارے جونئیر پر وفیسر