مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 142

مجالس عرفان — Page 17

K کا قائم نہیں بن سکتا۔اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت درجہ کمال کو نہ پہنچی ہوتی تو آنحضور کو قائم کرنا درست نہیں تھا۔اس لئے قائم میں آپ کی شریعت کا کمال شامل ہے اور اس کی سند کے طور پر ہم قرآن کریم کی وہ آیت پیش کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اليوم أكملت لكوديتكم وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَى وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - کہ آج ہم نے دین کو کامل کر دیا اور کمال کے اوپر اضافہ نہیں ہو سکتا نہ اس میں نفی ہو سکتی ہے۔کیو نکہ نفی ہوگی تب نقص پیدا ہو گا۔اضافہ ہو گا تب نقص پیدا ہو گا۔تو لازم ہے کہ جو بھی صاحب خاتم ہو اس کا دین یا اس کا کلام جن معنوں میں بھی وہ ہے وہ قیامت تک جاری رہے۔اور کسی ترسیم کی اس میں گنجائش نہ ہو۔پس ان معنوں میں بھی ہم حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم مانتے ہیں کہ آپ کے بعد قیامت تک اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔کسی اور رسول کا حکم آپ کے حکم کے سوا نہیں چل سکتا۔دین کامل ہو گیا اور اس دین کی حفاظت کا وعدہ ہو گیا۔اس لئے اب قیامت تک یہ سکہ جاری رہے گا۔یہ چار معنی ہیں خاتم کے جو ہمارے نزدیک درست اور محاورہ عرب سے ثابت ہیں اور معقولیت رکھتے ہیں۔بعض بزرگان سلف کا بھی یہی مسلک ہے جو جات پیش کرتی ہے آخریت کے معنی محض زمانی لحاظ سے اس لئے بھی غلط ہیں کہ گزشتہ چوٹی کے علماء ہر فرقے کے جس میں شیعہ آئمہ بھی شامل ہیں، سنی بزرگ بھی۔اس درجے کے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت این سوربی حضرت شیخ عبد القادر کردستانی