مجالس عرفان — Page 19
تھے۔ان کے سامنے عمداً آخری کے معنوں کا جو ترجمہ تھا۔اس میں لفظ خاتم الستعمال کیا اور انہوں نے کاٹ دیا کہ غلط ہے۔مثلا بہادر شاہ ظفر مغلیہ خاندان کا آخری بادشاہ تھا۔زمانے کے لحاظ سے۔لیکن بہترین نہیں تھا آپ یہ ترجمہ کر لیجیئے۔اُردو میں یا انگریزی میں۔مغلیہ خاندان کا آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر تھا۔اور کسی عرب سے ترجمہ کروا لیجئے۔وہ کبھی کسی قیمت پر خاتم السلاطین من سلاطین مغلیہ نہیں کرے گا۔کیوں نہیں کرے گا۔وہاں دل گواہی دیتا ہے۔عرب کا محاورہ لوٹ آتا ہے واپس۔وہ جانتے ہیں کہ قائم بہترین کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور اگر اس کے یہ معنی نہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین ہونے کی آیت پھر اور کونسی رہ جاتی ہے ؟ سارے قرآن کریم میں یہی آیت ہے جو تو فیصدی قطعیت کے ساتھ اور وضاحت کے ساتھ آپ کو اگلوں اور پہلوں سے اعلیٰ اور سب سے افضل قرار دیتی ہے۔اس آیت کے ایسے معنی کر لینا جو محض اتفاقی حادثے سے تعلق رکھنے والے ہوں یعنی آخریت زمانہ اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔چنانچہ مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دیو بند سه راسی بارے میں قلم اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خاتم النبیین کا محض آخری ترجمہ کرنا زمانہ کے لحاظ سے کوئی بھی فضیلت اپنے اندر نہیں رکھتا۔اور یہ مقام مدرج ہے اس لئے یہ ترجمہ مقام مدح کے خلاف ہے۔قائم کا معنی ہے بہترین، سب سے اعلیٰ، سب سے افضل۔یہ کل تک کی آوازیں تھیں۔یعنی دیو بند جب بنایا گیا ہے۔اس کے بانی کا میں قول بیان کر رہا ہوں۔اور یہ سارے حوالے ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں آپ بے شک تحقیق کر لیجیے۔لے یہ حوالہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کے رسالہ تحذیران اس میں دیکھا جا سکتا ہے۔اسی مضمون کے مطابق یہ حوالہ مولانا عبد الحئی صاحب فرنگی محلی کی کتاب واقع الوسواس فی اثر این عباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔