مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 142

مجالس عرفان — Page 16

14 آپ کسی شاعر کو سند کہتے ہیں تو مراد ہے کہ اس کے کلام پر دوسرے کا کلام پہ کھا جائے گا ، اس کو فضیلت ملے گی۔ان معنوں میں آپ جہاں تک محاورہ عرب پر غور کریں گی ہر جگہ بلا استثناء یہ معنی ٹھیک بیٹھے گا۔ایک بھی استثناء کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔تیسرا معنی ہم یہ لیتے ہیں کہ انگو ٹھٹی زینت کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔دنیا میں ہر قوم میں زینت کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور عرب خاتم کے لفظ کو بطور زینت کے بھی استعمال کرتا تھا۔ان معنوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کا یہ معنی بنے گا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو زمرہ انبیاء کی رونق آگئی۔انبیاء کی زینت آگئی جس سے یہ محفل مجی۔اگر آپ نہ آئے ہوتے تو یہ محفل بے رونق رہتی۔اس طرح ولایت کے مضمون یہ معنی بنے گا کہ اے علی تو آیا تو ولیوں کی محفل میں رونق آئی تو نہ ہوتا تو یہ محفل خالی رہتی۔یعنی اس مجلس میں شان نہ پیدا ہوتی۔شاعروں کے اوپر بھی آپ لگا کر دیکھ لیجیئے۔اطبا پ بھی لگا کہ دیکھ لیجئے۔بات تو وہ درست ہوتی ہے جو ہر جگہ صحیح بیٹھے۔اب گز تو ریشم کو بھی ویسے ہی ناپتا ہے جیسے کٹھے کو ناپتا ہے۔وہ گنہ تو قابل اعتبار نہیں ہوگا جو ریشم کی دفعہ لمبا ہو جائے اور لٹھے کی دفعہ چھوٹا ہو جائے۔پس اگر آپ دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ خاتمیت کا مفہوم سمجھنا چاہتی ہیں تو تمام عرب محاورے کو اور آنحضرت کے اپنے محاورے کو اس کی فلاسفی کو سمجھے اور استعمال کر کے دیکھ لیں۔ایک اور معنی ہے خاتیت کا جس میں زمانی لحاظ سے آخریت پائی جاتی ہے لیکن وہ کیوں ؟ میں آپ کو بتاتا ہوں۔اور ان معنوں میں بھی ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم تسلیم کرتے ہیں۔وہ شخص جس کا کلام درجہ کمال کو پہنچ جائے، وہی اپنے مضمون کا خاتم ہوتا ہے۔اس کے سوا کوئی اور ادبی کلام والا اپنے مضمون