مجالس عرفان — Page 15
۱۵ ختم نبوت کی حقیقت خاتم کا معنی عرب ہمیشہ بہترین زمانی لحاظ سے نہیں بلکہ مقام کے لحاظ سے آخری کا لیتا ہے۔وہ جس کے اوپر اس چیز کا مقام ختم ہو جائے۔وہ مضمون ختم ہو جائے اور یہ محاورہ عربی کا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح اُردو میں ہم کہتے ہیں۔اس پر بات ختم ہو گئی۔انگریزی میں کہتے ہیں is the last of thing یہ Is دنیا کی زبانوں کا ایک محاورہ ہے جو مضمون کے لحاظ سے آخری بتاتا ہے۔نہ کہ زمانی لحاظ سے۔ان معنوں میں ہمارا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت سب نبیوں سے افضل ہیں۔ان پر نبوت کا مضمون ختم ہوگیا۔نبوت جو کچھ انسان کو عطا کر سکتی تھی۔اس سے زیادہ نہیں کر سکتی۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سے خاتم انہیں تھے جبکہ ابھی آغاز انسانیت بھی نہیں ہوا تھا۔اس وقت بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں عائد ہوتا۔اس لئے خاتم کی یہ تعریف Timeless ہے اور ولایت کے اوپر چھی بعینہ درست بیٹھتی ہے، شاعری پر بھی درست بیٹھتی ہے دوسرا معنی خاتم کا جو ہم لیتے ہیں وہ ہے سند۔اسی لئے بعض جگہ قرآن کریم میں Seal of Prophet ترجمہ کیا گیا ہے اور وہ مضمون انگر یٹی سے لیا گیا ہے۔کیونکہ خاتم کا لفظی ترجمہ انگوٹھی ہے انگوٹھی کو پرانے زمانوں میں مہر کے لئے Seal کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔تو دوسرا معنی خاتم کا یہ بنتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سند ہے ، نبوت میں آپ کا فعل سند ہے۔نبوت میں کسی اور نبی کے اوپر حضور کی نبوت نہیں پر کھی جاگتی مگر حضور پر ہر بچی کی صداقت پر لکھی جاسکتی ہے۔یہ مضمون شاعری میں بھی برابر بیٹھتا ہے۔طبابت میں بھی برابر بیٹھتا ہے، ہر مضمون میں صحیح اترتا ہے۔اب :