مجالس عرفان — Page 129
۱۲۹ بات ہو تو حید پر حملہ آور ہورہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سینہ سپر ہو جائیں ہیں جو امنے دیتے ہیں بے شک دیں لیکن ہم توحید کے پیغام کو بہر حال زندہ رکھیں گے۔ایک دلچسپ سوال جو قریباً ہر مجلس میں ضرور اٹھایا جاتا ہے وہ جنوں کے متعلق ہوتا ہے۔چنانچہ کراچی میں بھی ایک بہن جنوں کے متعلق جاننا چاہتی ہیں۔حضور نے فرما یار جنوں کی حقیقت قرآن کریم میں جنوں کے وجود کا ذکر ہے تو وہ ہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ نہیں ہیں۔لیکن جنوں پر ایمان لانے کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔بعض وجود ہیں جو ایمانیات میں داخل ہیں۔مثلاً ملائکہ نہیں ان پر ایمان کا ذکر ملتا ہے۔لیکن جنوں پر ایمان کا قرآن کریم میں ذکر نہیں ملتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوں سے ایسا تعلق قائم نہ کریں کہ ان کی باتیں مانی جارہی ہیں۔ان سے محبت کے مراسم پیدا ہو رہے ہیں بلکہ دنیا میں بہت سارے وجود ہیں ، پہاڑ ہیں ، دریا ہیں ، آپ ان کو مانتی ہیں۔اسی طرح سمجھے ہیں کر حین بھی کوئی مخلوق ہوگی۔لیکن وہ جن بہر حال نہیں ہے جو مولوی قابو کر لیتا ہے جس سے دل رام کئے جاتے ہیں اور ان کی طرف بہت سی ایسی حرکتیں منسوب کی جاتی ہیں جن کا شرعاً کوئی جواز ہی نہیں ہے۔قرآن کریم میں ایسے جن کا کوئی ذکر نہیں ملتا قرآن کریم میں جنات کی جو تمہیں بیان ہوئی ہیں ان میں بکٹیریا بھی شامل ہیں، ان میں ٹوٹے لوگوں کو بھی جن کہا گیا ہے، ان میں چھوٹے لنگوں کو الناس ، اور بڑے لوگوں کو " جن " قرار دے کر انہی اصطلاحوں میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں Capitalist سرمایه دارا در عوامی طاقتیں الگ الگ ہو جائیں گی۔پھر ان لوگوں کو بھی چھی کہا