مجالس عرفان — Page 122
۱۲۲ کا دعویدار ہوتا اور یہ ثابت ہو جاتا کہ تمام انبیاء در اصل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں فخر حاصل کرتے ہیں۔کیونکہ ان کی اپنی پیش گوئیوں کے مطابق اُن کا آنا ہوا تو امت محمدیہ میں ہوا اور بحیثیت غلام محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہوا۔یہ وہ مضمون ہے جسے حضرت اقدس نے مختلف اشعار میں کھولا اور اس مضمون میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ ایک شیعہ امام اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام مہدی جب آئے گا وہ خود تو دعویدار نہیں تھے آنے والے کے متعلق کہہ رہے تھے) تو کبھی وہ یہ کہے گا کہ میں آدم ہوں، پھر کہے گا میں موسی کہوں کبھی کہے گا ابراہیم ہوں، کبھی کہے گا میں موسلی ہوں، کبھی یہ بھی دعوی کریگا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی بھی True Copy ہوں ، آپ کا خلیل کامل ہوں اور اس لحاظ سے وہ تمام گزشتہ صالحین امت سے افضل ہوگا کیونکہ تمام انبیاء اس میں جلوہ گر ہو جائیں گے یہ پرانوں نے بھی پیشگوئی کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاں سے نکالی اس لئے کہ وہ قرآن کا فہم رکھتے تھے احادیث کا فہم رکھتے تھے، اخذ کر کے یا اللہ تعالے سے الہام پا کر یہ باتیں پہلے سے بیان کر دی ام کا فہم کے تھیں تو وہ امام مہدی جو اس تصور کے مطابق آتا ہے اس نے بھی تو یہی کہنا تھا اب تو حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا نے یہ کہا تو غلط بات کس طرح کر دی۔ایک سوال یہ بھی کیا گیا کہ مجدد ہر صدی پر آتے رہے کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟ حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔مجددیت خلافت کی قائم مقام ہے سوال یہ ہے کہ تجدید دین کے متعلق پیش گوئیاں ہیں۔ان میں کیا خوشخبری تھی اور کیا اقدار کا پہلو تھا اور تاریخ اسلام سے ثابت ہوا کہ دونوں پہلو پیچھے ثابت ہوئے خلافت کے ہوتے ہوئے جب مجددیت کی خبر دی گئی کہ ایک سو سال بعد مجدد آئے گا تو یہ بھی