مجالس عرفان — Page 123
۱۲۳ پیش گوئی تھی کہ سو سال سے پہلے خلافت ہاتھ سے نکل جائے گی۔ورنہ قرآن کریم نے۔خلافت کی پیش گوئی کی ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پیشگوئی کو نظر انداز کر کے کوئی اور پیش گوئی کر دیں؛ یہ بات درست نہیں ہے تو مجددیت خلافت کے قائم مقام ایک انسٹی ٹیوشن ہے اور واقعہ یہی ہوا کہ اسلام کی پہلی صدی کے ختم ہونے سے بہت پہلے خلافت کا نظام ٹوٹ گیا اور خلافت کا نظام ٹوٹنے کے نیبو میں روحانی نظام حکومت سے الگ ہو گیا۔اور مرکزی نظام در حقیقوں میں بٹ گیا، ایک مصلحاء اور اولیا و پیدا ہونے شروع ہوئے جنہوں نے اپنے طور پر اسلام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور اس دوران میں جب بگاڑ پیدا ہوا، ایک سو سال کے بعد تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمربن عبد العزیز کو مجید دینا یا جو بظاہر خلیفہ بھی تھے لیکن ان کا اصل مقام مجددیت کا تھا کیونکہ خلافت راشدہ تو ختم ہو چکی تھی اور انہوں نے اسلام کی عظیم الشان خدمت کی اور بدر سوم کو نکالا اور بہت سی نئی باتیں جاری کیں۔پھر ایک عرصہ گذرا اور عالم اسلام زیادہ پھیل گیا۔پھر ایک وقت میں ایک سے زیادہ مجدد بھی آتے رہے کوئی ایران میں پیدا ہو رہا ہے کوئی مڈل ایسٹ میں پیدا ہو رہا ہے، کوئی افریقہ میں پیدا ہورہا ہے، سارے عالم اسلام کے لئے ایک مجدد آہی نہیں سکتا تھا کیونکہ وسائل کی کمی تقاضا کرتی تھی کہ انگ انگ جگہوں کے لئے الگ الگ مجدد آئیں اور پھر ایک اور بات ہم نے عالم اسلام میں دیکھی کہ مجددین میں سے اکثریت نے دعوی بھی نہیں کیا۔اور بہت سے ایسے تھے جن کو بعضوں نے مجید کہا اور بعض ایسے تھے جن کو بعض دوسروں نے محمدد کہا اور کسی کو بعین تیسر وں نے مجدد کہا اور آپ کئی لسٹیں مجددین کی بن گئیں تو سن لے کے اندر جمع کا پہلو بھی موجود تھا اس لئے مجددیت کے پیغام میں نہ تو کوئی دعوی شرط تھا نہ اس مجدد کو ماننا له إن الله يبعث لهذ والامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها بينها، كى حدیث میں لفظ مسن کی طرف اشارہ ہے۔