مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 142

مجالس عرفان — Page 121

مجھے دوبارہ مسیح المزمان بنا کر امت محمدیہ میں اس لئے بھیجا ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ وہ خدا کا بیٹا ہے نبیوں سے افضل ہے، اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرے کہ مسیح تو وہ ہے جو انحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا غلام ہونے میں فخر حاصل کرتا ہے تو غلام کے مرتبے کی بلندی آقا کے رتبے کی بلندی ہوتی ہے۔اس میں مقابلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ اس میں بعض پیش گوئیوں کی طرف اشارہ ہے۔قرآن کریم نے ایک آیت میں اس طرف روشنی ڈالی اور آگے اس کے اوپر تمام گزشتہ بزرگان نے بھی گذشتہ امتوں کے آئمہ نے بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور وہ یہ آیت ہے۔وإذ الرسل اقتَتْ کہ آخری زمانہ میں ایسا وقت آئے گا کہ رسول مبعوث کئے جائیں گے گویا کہ سارے رسول دوبارہ آگئے ہیں۔یہ وہی زمانہ ہے۔اس زمانے میں یہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ گزشتہ انبیاء کی پیشگوئیوں سے جو نقشہ کھینچ رہے ہیں وہ اس زمانہ کا ہے اور کہتے ہیں ہم دوبارہ آئیں گے۔یشدا زرتشت کی کتب میں بھی اس زمانے کا نقشہ ملتا ہے۔ہندو کتب میں کرشن جی کہتے ہیں کہ میں دوبارہ آؤں گا تو کلجگ کا جو نقشہ ہے وہ بعینہ آج کل کے نقشہ کے مطابق بنتا ہے۔پھر حضرت بدھ نے جو نقشہ کھینچا ہے اپنے دوبارہ آنے کا وہ بھی اسی زمانے کے مطابق ملتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مہدی علیہ السلام کے آنے کی علامتیں بیان کی ہیں وہ بھی ان کے ساتھ ملتی جلتی ہیں تو اب عقلاً دو چیزیں ممکن تھیں ایک یہ کہ ہر نبی اپنی اپنی امت میں آتا اور ہر امت دوبارہ زندہ ہو جاتی یا صرف اسلام میں ہی وہ ظاہر ہوتا مگر اسلام میں وہ کس طرح ظاہر ہوتا ایک شخص کی صورت میں یا پندرہ بیس ، چالیس پچاس انبیاء انگ انگ ظاہر ہو جاتے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ہماری طرف آؤ۔اس طرح تو وہ اسلام کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیتے ایک ہی حل تھا کہ ایک شخص کو تمثیلی طور پر وہ سارے نام عطا کئے جاتے جنہوں نے آتا تھا اور اجتماعی صورت میں ایک شخص ان کا مظہر بن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی