مجالس عرفان — Page 120
۱۲۰ ایک غیر از جماعت خاتون کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ایک شعر ہے۔میں کبھی آدم کبھی موسمی کبھی لیقوب ہوں نیز ابراہیم ہوئی نسلیں ہیں میری بے شمار اس شعر سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ خود کو حضرت رسول کریم صل اللہ علیہ دوم سے بھی اعلیٰ اور افضل ثابت کرتے ہیں۔حضور کے فرمایا۔وہ ہے میں چیز کیا ہوں میں فیصلہ یہی ہے “ یہ بالکل الٹ مفہوم لیا ہے جو شخص یہ دعوی کرے کہ میں کامل غلام ہوں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا اور یہ کہے کہ ت سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا ایک ایک چیز ہم نے اس سے پائی اور جو یہ دعویٰ کرے سے این چشمه روان که بخلق خدا دیم یک قطره زیجر کمال محمد است علم و عرفان کا جو چشمہ رواں دیکھ رہے ہو یہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بحر عرفان کا ایک قطرہ ہے۔اس کا مقام جتنا بڑا ہو آقا کا اس سے زیادہ ہی۔بڑا ہوتا چلا جائے گا نہ کہ تعوذ باللہ اس کے مقام کے پڑھنے سے وہ گر جائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو نے اس مضمون کو ایک اور جگہ خود کھولا۔آپ نے فرمایا ے بر ترگمان و دہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو بیح الزمان ہے کہ صیح الزمان کی شان تو ایک طرف ہے جو گپیں بنائی ہیں عیسائیوں نے۔خدا نے