مجالس عرفان — Page 12
۱۲ دستور پاکستان کے مطابق ختم نبوت کی تعریف خاتم النبیین کی جو تعریف ہمارے مخالف تمام فرقوں کے (موجودہ زمانے گئے) علماء کی متفقہ تعریف ہے وہ پاکستان کی Constitution (آمین) کا حصہ بن چکی ہے۔اس تعریف کی رو سے خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ ایسا رسول آگیا جونہ مانی لحاظ سے آخری ہے جس کے بعد ہر قسم کی نبوت ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے اور آئندہ دنیا کبھی کسی بنی کا منہ نہیں دیکھے گی خواہ وہ امتی ہو یا غیر امتی ہو، ماتحت ہویا غیر تخت ہو۔اس میں کوئی شرط نہیں۔پرانی پانی ہر قسم کی نبوت ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔یہ ترجمہ ہے آیت خاتم النبیین کا۔آج کل کے علماء کا اور ہمارا یہ ترجمہ نہیں ہے۔پہلے اس سے کہ میں اپنا ترجمہ بتاؤں اور اسکی تائید میں Evidence (ثروت ) پیش کروں۔(موجودہ زمانے کے مخالف علماء) کے ترجمے کے اوپر میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں اور اتنے قطعی او یقینی حوالے دوں گا جو ہر فریق کو ا نا اس طرح مسلم ہیں کہ آج دنیا کا بڑے سے بڑا عالم بھی ان حوالوں پر اعتراض نہیں کر سکتا۔لفظ خاتم کی تشریح میں خود آنحضرت کے دو ارشادات سب سے پہلی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوگی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت خاتم النبین نازل ہوئی۔آپ سے بہتر آیت خاتم النبیین کا مفہوم کوئی نہیں تم دیتی پھر وہ سوی مسلمان ہو آپ کی صدی میں پیدا ہوئے۔پھر جو اس کے بعد روشنی کے زمانہ میں آئے اور پھر جو تیسری صدی میں پیدا ہوئے۔ان کی بات کو لانہ کا زیادہ وقعت دی جائے گی یہ نسبت آج کل کے علماء کے۔اگر نیستم لے اوپر پر دو قوسین کے درمیان کے الفاظ وضاحت کی خاطر زائد کئے گئے ہیں۔