مجالس عرفان — Page 13
۱۳ ہے۔اور میرے نزدیک یہ مسلمہ ہے۔دنیا کا کوئی مسلمان آج یہ نہیں کہہ سکتا۔کہ ان کی باتوں کے مقابل پر آج کے کسی عالم کی بات قابل پذیرائی ہے یعنی شنوائی کے لائق ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ خاتم کے لفظ کو اس طرح استعمال فرمایا کہ اس کا وہ ترجمہ ہو نہیں سکتا جو آج ہم پر ٹھونسا جا رہا ہے اس کو وہ مضمون Totally رو کرتا ہے جو حضور اکرم صلی الہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جبکہ آدم اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں تھا۔آپ کا محاورہ یہ ہے اپنی تخلیق کی مٹی میں لت پت تھا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر خاتم کے لفظ میں آخریت پائی جاتی ہے۔کہ اس کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا آ نہیں سکتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آغاز انسانیت سے بلکہ آغانہ زندگی سے بھی پہلے خود فرمار ہے ہیں کہ میں خاتم النبیین تھا۔اس کے بعد کسی نبی کو نہیں آنا چاہیے تھا۔دوسرا موقعہ ہے جبکہ حضرت علی کو مخاطب کر کے حضور نے فرمایا انا خاتم الأنبياء وانتَ يَا عَلَى خَاتم الاولياء ایک ہی بریکٹ میں دونوں لفظ خاتم کے مضاف کئے ہیں نبی کی طرف اور ولی کی طرف فرمایا اے علی نہیں خاتم الانبیاء ہوں۔اور تو خاتم الاولیاء ہے۔اب ہم علماء سے یہ گزارش کرتے ہیں اور کرتے چلے آئے ہیں کہ آپ جو چاہیں خاتم کا ترجمہ کر کے ان دونوں پر فٹ کر کے دکھا دیں۔حضور اکرم کا کلام ہے۔اور ایک ہی بریکٹ میں دونوں لفظوں کا استعمال فرمایا ہے اور لفظ خاتم میں کوئی تبدیلی نہیں۔صرف نبیوں کا خاتم اور ولیوں کا خاتم۔اس لئے خاتم کا ترجمہ تبدیل نہیں ہو گا۔ولی اور نبی کا صرف مفہوم بدلے گا۔اگر یہ ترجمہ درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فماتے ہیں کہ میرے بعد آئندہ قیامت تک کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا اور نبوت کی صف پیٹی گئی۔اب کبھی دُنیا کسی اور