محضرنامہ — Page 61
کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتا ہے اور ہر ایک جو اس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے یا چشمہ معرفت صفحہ ۲۹۱تا ۲۹۵) متبعین نے قرآیض شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہب خاصہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگر چہ وہ بیان اور تقریر سے خارج ہیں مگر اُن میں سے کئی ایک ایسے انعامات عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں :۔ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوان نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں جب انسان فرقان مجید کی پیچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امروہی کے بجلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری و معنوی باقی نہیں رہتا تب اس کی نظر اور منکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب وغریب لطائف اور نکات علم الہی کے جو کلام الہی میں پوشیدہ ہیں اس پر کھلتے ہیں اور ابر نیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كثيرا یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دئیے جاتے ہیں اور ان کے منکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ