محضرنامہ — Page 62
۲۲ درجہ کے حقائق حقہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقت ہیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں اور تائیدات الہیہ ہر ایک تحقیق و تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان اُن کے لئے میسر کر دیتی ہیں جس سے بیان اُن کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقع ہوتی ہے۔سو جوجو علوم و معارف و دقائق و حقائق و لطائف ونکات و ادله و برا این ان کو سو جھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے مرتبہ کا ملہ پر واقعہ ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تعمیم غیبی اور تائید صمدی اُن کی پیش رو ہوتی ہے اور اس تقسیم کی طاقت سے وہ اسرار و انوار قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے گھل نہیں سکتے اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفات الہی کے متعلق اور عالم معاد کی نسبت لطیف اور باریک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں ان پر ظاہر ہوتی ہیں۔یہ ایک روحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدرو منزلت دانشمندوں کی نظر میں اُنہیں خوارق سے معلوم ہوتا ہے اور وہی خوارق اُن کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور اُن کے چہرہ مقالات کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ علوم و معارف حقہ کی ہلیت سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالتی ہے اور صداقت اور معرفت ہر یک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے۔اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبار غیبیہ بھی اُسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضات شاقہ بھی بجا لاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اُس سے ظہور میں آتے ہیں مگر علم الہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے یہاں تک کہ حق اور باطل میں تمیز ہی نہیں کر سکتا بلکہ خیالات فاسدہ میں گرفتار اور عقائد غیر صحیحہ میں مبتلا ہے۔ہر ایک بات میں خام اور ہر ایک رائے میں فاش غلطی کرتا ہے تو ایسا شخص طبائع سلمہ کی نظر میں نہایت