محضرنامہ

by Other Authors

Page 60 of 195

محضرنامہ — Page 60

آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور وہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قومیں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتا ہے اور عالم ملکوت کا اس کو سیر کراتا ہے اور اپنے انا الموجود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اس کو خبر دیتا ہے مگر وید میں یہ ہر نہیں ہے ہر گز نہیں ہے۔اور ویک اس بوسیدہ گٹھڑی کی مانند ہے جس کا مالک مرجائے اور یا جسکی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھڑی ہے۔جس پر میشر کی طرف وید بلاتا ہے اس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ ویک اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتا کہ اس کا پر میشر موجود بھی ہے۔اور ویک کی گمراہ کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رو سے ارواح اور پر مانو یعنی ذرات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صالح کا کیونکر پتہ لگے۔ایسا ہی وید کلام الہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کا منکر ہے۔اور وید کی رُو سے پر میشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسا نشان ظاہر نہیں کر سکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو۔پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن خکن کیا جائے تو اس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اورخدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا۔غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کر سکتا جو تازہ طور پر خدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیتی ہے مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور ان سب کا جو ہم سے پہلے گزرچکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی روحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے پتے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے دل کو منور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلا کر خدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹک ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اور علوم غیب عطا فرماتا ہے اور دعا قبول