محضرنامہ

by Other Authors

Page 156 of 195

محضرنامہ — Page 156

104 (۵) پھر کیا ہم ان شیعوں کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق علماء عامتہ السلمین ان لرزہ خیز الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں :۔بالجملہ ان رافضیوں برائیوں کے باب میں حکیم نقدینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مروستی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہر گز نہ ہو گا محض زنا ہوگا۔اولاد ولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگر چہ اولاد بھی سنی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ ترکہ کی تحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریب بھی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا شتی توشنی کیسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی۔یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت ، عالم ، جاہل ، کسی سے میل جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشتہ حرام جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کا فر ہونے میں شک کرے باجماع تمام ائمہ دیر نے خود کا فربے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے پیچھے بچے سنی بہنیں یا فتوی مولانا شاہ مصطفی رضا خان بحواله رساله رد الرفضه ۲۳ شائع کرده نوری کتبخانه بازارها تا اب لاہور پاکستان مطبوعہ گلزار عالم پریس بیرون بھاٹی گیٹ لاہور ) " آج کل کے روافض تو عموما ضروریات دین کے منکر اور قطعا مرتد ہیں۔ان کے مرد یا عورت کا کسی سے نکاح ہوسکتا ہی نہیں۔ایسے ہی وہابی ، قادیانی ، دیوبندی، نیچری، چکڑالوی جمله مرتین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کا تمام جہان میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کافر اصلی یا مرتد انسان ہو یا حیوان محض باطل اور ناخالص ہوگا اور اولا دو لدالزنا الملفوظ حفتر دوم منحه من الظلم بند)