محضرنامہ — Page 155
۱۵۵ بریلوی اور دیوبندی اور مودودی علماء یہ فتوی صادر فرماتے ہیں کہ :۔" چکڑالویت حضور سرور کائنات علیہ التسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کی متشکر اور آپ کی احادیث مبارکہ کی جانی دشمن ہے۔رسول کریم کے ان کھلے ہوئے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔جانتے ہو! باغی کی سزا کیا ہے ؟ صرف گولی یا (ہفتہ وار رضوان لاہور چکڑالوتیت نمبر، اہل سنت و الجماعت کا نسبی ترجمان ۱- ۲۸ فروری ۵۳ پنڈ ی مو احد رضوی کو آپریٹوکیپیٹل پرنٹنگ پریس لاہور دفتر عنوان اندرون دہلی دروازہ لاہو) پھر ولی حسن صاحب ٹونکی اُن پر صادر ہونے والے شرعی احکامات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :۔غلام احمد پرویز شریعت محمدیہ کی روسے کا فر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج۔نہ اس شخص کے عقد نکاح میں کوئی مسلمان عورت رہ سکتی ہے اور نہ کسی مسلمان عورت کا نکاح اس سے ہو سکتا ہے۔نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کا دفن کرنا جائز ہوگا۔اور یہ حکم صرف پر ویز ہی کا نہیں بلکہ ہر کا فر کا ہے۔اور ہر وہ شخص جو اس کے متبعین میں ان عقائد کفریہ کے ہمنوا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے اور جب یہ مرتد ٹھرا تو پھر اس کے ساتھ کسی قسم کے بھی اسلامی تعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں ہیں “ د ولی حسن ٹونکی غفر اللہ مفتی و مدرس مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی محمد یوسف بنوری شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ ٹاؤن کراچی ) پرویزیوں کے متعلق جماعت اسلامی سے آرگن تسنیم' کا فتویٰ یہ ہے کہ :- اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شریعت نہیں ہے تو یہ صریح گھر ہے اور بالکل اسی طرح کا کفر ہے جس طرح کا کفر قا دیانیوں کا ہے بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید ہے۔مضمون مولانا امین حسن اصلاحی، روز نام نیستیم لاہور ، راگست ۶۱۹۵۲ ما)