محضرنامہ — Page 8
" ہوتا ہے جس کی روشنی میں موجودہ قرار داد پر غور کرنے سے قبل اس نکتہ استحقاق کا فیصلہ ضروری ہے۔وہ یہ کہ ہمارے آقا و مولا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ سَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُتُهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً " کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔حضرت محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ جو مسلمانان حجاز کی بھاری اکثریت اور اعلی حضرت شافعیل کے عقیدہ کے مطابق بارھویں صدی کے مجدد تھے مندرجہ بالا حدیث درج کر کے ارشاد فرماتے ہیں :۔فَهَذِهِ الْمَسْتَلَةُ اَجَ الْمَسَائِلِ فَمَنْ فَهِمَهَا فَهُوَ الْفَقِيهُ وَمَنْ عَمِلَ بِهَا 't ދހ ދ فهو المسلم مختصر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ۱۳ ۱۴- الامام محمد بن عبد الوہاب مطبوعہ قاہرہ) یعنی تہتر فرقوں میں سے بہتر کے ناری اور ایک کے منبتی ہونے کا مسئلہ ایک عظیم الشان مسئلہ ہے جو اسے سمجھتا ہے وہی فقیہہ ہے اور جو اس پر عمل کرتا یعنی بہتر فرقوں کو عملاً ناری اور ایک کو جنتی قرار دیتا ہے صرف اور صرف وہی مسلمان ہے۔جماعت اسلامی کا مشہور آرگن " ترجمان القرآن“ بابت جنوری ۱۹۴۵ء لکھتا ہے :- " اسلام میں اکثریت کا رکسی بات پر متفق ہونا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے نہ اکثریت کا نام سواد اعظم ہے نہ ہر بھیڑ جماعت کے حکم میں داخل ہے اور نہ کسی مقام کے مولویوں کی کسی جماعت کا کسی رائے کو اختیار کر لینا اجماع ہے۔۔۔۔۔اس مطلب کی تائید اس حدیث نبوی سے ہوتی ہے جو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بایں الفاظ مروی ہے :- ان بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرَقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةٌ كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّامِلَةً - قَالُوْا مَنْ هِيَ يَارَسُوْلَ اللهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي