محضرنامہ — Page 7
لگانا کہ وہ زبان سے تو اقرار کر رہا ہے مگر دل سے منکر ہے لہذا مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔اپنے حق اختیا سے تجاوز کرتا ہے۔چنانچہ ذیل کی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بالبد است اس امر پر روشنی ڈال رہی ہے :۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جمہینہ قبیلہ کے نخلستان کی طرف بھیجا ہم نے صبح صبح اُن کے چشموں پر ہی اُن کو جالیا۔نہیں نے اور ایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا۔جب ہم نے اس کو جالیا اور اسے مغلوب کر لیا تو وہ بول اُٹھا لا إِلهَ إِلَّا الله (خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ) اس بات سے میرا انصاری ساتھی اس سے رک گیا لیکن میں نے اس پر نیزے کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا ہے اسامہ کیا لا الہ الا اللہ پڑھ لینے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا ؟ میں نے عرض کیا یا یوں ہے وہ صرف بچاؤ کے لئے (یہ الفاظ ) کہہ رہا تھا۔آپ بار بار یہ دہراتے جاتے تھے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں مسلمان ہی نہ ہوتا۔اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبکہ اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا پھر بھی تونے اُسے قتل کر دیا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کہا تھا آپ نے فرمایا کہ کیوں نہ تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں چھوڑ نے یہ بات اتنی بار دہرائی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش میں آج مسلمان ہوا ہوتا۔(بخاری کتاب المغازی باب بحث النبي أسامة بن زيد الى الحرقات من جهينة طلا قراداؤں پر اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک بنیادی اعتراض اس سلسلہ میں نہایت ادب سے یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ نیشنل اسمبلی کے سامنے جس صورت میں موجودہ ریزولیوشن پیش ہوا ہے اس پر اسلامی نقطۂ نگاہ سے ایک نہایت اہم اور بنیادی اعتراض وارد